پمز کا نظام، وفاقی وزیر صحت کا سرکاری اسپتالوں سے متعلق بڑا بیان

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ حکومت کو سرکاری اسپتال نہیں چلانے چاہییں۔ ان کے بقول، موجودہ نظام میں حکومت کو بددعاؤں کے سوا کچھ نہیں ملتا۔

پمز میں انتظامی بحران

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس پمز اسپتال میں ہوا۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر عامر ولی الدین چشتی نے کی۔

کمیٹی ارکان نے پمز میں پیش آنے والے سانحے اور اسپتال کے انتظامی نظام پر سوالات اٹھائے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پمز پر مریضوں کا غیر معمولی بوجھ ہے اور کمیٹی کے پاس واقعے سے متعلق شواہد موجود ہیں۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پمز کا نظام گل سڑ چکا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی کے بغیر مسائل حل نہیں ہوسکتے۔

ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی پر سوالات

اجلاس میں انکشاف ہوا کہ اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی نے گزشتہ دو برس کے دوران پمز کا معائنہ نہیں کیا۔

کمیٹی ارکان نے اتھارٹی کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ارکان نے سوال اٹھایا کہ اگر ریگولیٹری ادارہ سرکاری اسپتالوں کا معائنہ نہیں کرتا تو اس کی ذمہ داری کیا ہے۔

اجلاس میں اتھارٹی کی سابق قیادت کے مبینہ مفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

پمز میں اصلاحات پر زور

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پمز میں میرٹ کی بنیاد پر انتظامی سربراہ مقرر ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق سربراہ کو فیصلے کرنے کے مکمل اختیارات بھی ملنے چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ پمز آرڈیننس کے باعث باہر سے تعیناتیوں میں مشکلات ہیں۔ ان کے مطابق اسپتال میں بنیادی اور جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔

سرکاری اسپتالوں کا ماڈل تبدیل کرنے کی تجویز

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ حکومت کو سرکاری اسپتال چلانے کے بجائے صحت کی سہولیات کے لیے متبادل نظام پر غور کرنا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک کا صحت کا بجٹ 1556 ارب روپے ہے۔ ان کے مطابق 210 ارب روپے میں ملک بھر کے عوام کو یونیورسل ہیلتھ سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس ماڈل سے موجودہ اسپتالوں کے ساتھ مزید ہزاروں اسپتالوں کو بھی نظام میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

کمیٹی کی تشویش

کمیٹی ارکان نے پمز کے فائر سیفٹی اور ایمرجنسی نظام پر بھی سوالات اٹھائے۔ ارکان کے مطابق آتشزدگی کے بعد آکسیجن بند کرنے کا نظام فعال نہیں ہوا۔

چیئرمین کمیٹی نے سی ڈی اے، ضلعی انتظامیہ، سول ڈیفنس اور اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

کمیٹی نے متعلقہ اداروں سے گزشتہ ایک سال کے دوران سیل کیے گئے یونٹس اور دوبارہ کھولے گئے مراکز کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!