سعید غنی نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات میں دھاندلی کے شواہد سامنے آئے ہیں اور اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی پہلے ہی اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئے صوبے بنانے کا طریقہ آئین میں موجود ہے، تاہم سندھ میں آج تک کسی سیاسی جماعت یا فرد نے اس مقصد کے لیے آئینی راستہ اختیار نہیں کیا کیونکہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے خلاف ہیں۔
کراچی میں گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ اعظم بستی میں زیبسٹ زیب ٹیک کے تحت مختلف فنی کورسز مکمل کرنے والے طلبہ و طالبات میں اسناد تقسیم کرنے کی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر محنت، افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو کشمیر کے انتخابات پر اعتراض انتخابی دھاندلی کے باعث ہے اور سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اس حوالے سے شواہد بھی پیش کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی نے ماضی میں نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی طریقہ اختیار کیا تھا، لیکن سندھ اسمبلی میں کبھی ایسی کوئی آئینی پیش رفت نہیں ہوئی کیونکہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے حامی نہیں ہیں۔
2024 کے عام انتخابات سے متعلق سوال پر سعید غنی نے کہا کہ عوام جانتے ہیں کہ مختلف سیاسی رہنما انتخابات میں کامیاب ہوئے یا نہیں، جبکہ سندھ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، صدر آصف علی زرداری، فریال تالپور اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت دیگر رہنما عوام کے ووٹ سے منتخب ہوئے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے فنی تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت تمام نوجوانوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم نہیں کر سکتی، اس لیے انہیں ہنر مند بنانا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے لیے روزگار پیدا کر سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ اعظم بستی کی عمارت ماضی میں خستہ حال تھی، جسے سندھ حکومت نے زیبسٹ زیب ٹیک کے تعاون سے ازسرنو تعمیر کرایا۔ ان کے مطابق حکومت کا ہدف پانچ برس میں پانچ ہزار نوجوانوں کو فنی تربیت دینا تھا، جبکہ اگست 2023 سے اب تک ساڑھے تین ہزار سے زائد نوجوان مختلف شعبوں میں تربیت حاصل کر چکے ہیں، جن میں طالبات کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔
ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز سے متعلق سوال پر سعید غنی نے واقعے کو افسوس ناک اور مجرمانہ غفلت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی ہر سطح پر تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت متاثرہ افراد کی مالی معاونت کا فیصلہ کر چکی ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک مستقل کمیٹی اور ایک آزاد اینڈومنٹ فنڈ قائم کیا جائے گا، جس کے ذریعے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کی طویل مدتی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جائے گا۔