سی ٹی ڈی کی استعداد کار اور دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لیے وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کراچی میں سی ٹی ڈی ہیڈ آفس کا دورہ کیا، جہاں آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے ان کا استقبال کیا۔
اجلاس کے دوران ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر نے دہشت گردی کے خلاف جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، محکمہ کی آپریشنل کارکردگی اور آئندہ حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ایس ایس پی سی ٹی ڈی آپریشنز ون، ایس ایس پی سی ٹی ڈی آپریشنز ٹو اور دیگر سینئر افسران بھی شریک ہوئے۔
وزیر داخلہ سندھ نے سی ٹی ڈی کی پیشہ ورانہ کارکردگی اور دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ دستیاب اور درکار وسائل سے متعلق جامع سفارشات جلد از جلد پیش کی جائیں تاکہ ادارے کی صلاحیت مزید بہتر بنائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ سی ٹی ڈی کی استعداد کار، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی کے لیے ہر ممکن وسائل فراہم کرے گی۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سی ٹی ڈی صفِ اول کا ادارہ ہے اور اس کی مضبوطی صوبے کے امن کے لیے ناگزیر ہے۔
ضیاء الحسن لنجار نے ہدایت کی کہ سی ٹی ڈی کو جدید اسلحہ، انٹیلی جنس، فرانزک اور تکنیکی سہولیات سے مزید مستحکم کیا جائے تاکہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائیاں یقینی بنائی جا سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونین کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے اجلاس کو بتایا کہ سندھ پولیس دہشت گردی کے خلاف ہر محاذ پر پیشہ ورانہ انداز میں کارروائیاں کر رہی ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حساس اداروں کے ساتھ مؤثر رابطے اور معلومات کے تبادلے کے باعث دہشت گرد عناصر کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سی ٹی ڈی جدید انٹیلی جنس، سائنسی تفتیش اور مربوط آپریشنز کے ذریعے دہشت گرد نیٹ ورکس کا تعاقب کر رہی ہے اور ادارے کی استعداد کار میں اضافے کے لیے جدید وسائل کا مؤثر استعمال جاری رکھا جائے گا۔