...

ایم 6 موٹروے: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا فنڈز کی کمی اور منصوبوں میں تاخیر پر اظہارِ تشویش

ایم 6 موٹروے کی تعمیر میں تاخیر اور سندھ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے وفاقی فنڈز کی کمی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ و خصوصی اقدامات کے کراچی میں ہونے والے اجلاس کا مرکزی موضوع رہی، جہاں ارکان نے متعدد منصوبوں پر پیش رفت سست ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔

چیئرمین سید عبدالقادر گیلانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں قائمہ کمیٹی کے ارکان، سندھ سے تعلق رکھنے والے مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکانِ قومی اسمبلی، وفاقی سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اویس سومرا، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ سندھ نجم احمد شاہ، کراچی پورٹ ٹرسٹ، لوکل گورنمنٹ سندھ اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں قائمہ کمیٹی کے 15ویں اجلاس کے منٹس کی منظوری دی گئی، جبکہ وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) میں سندھ کے حصے اور مختلف ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

سندھ سے تعلق رکھنے والے ارکانِ قومی اسمبلی نے وفاقی بجٹ میں صوبے کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جاری منصوبے مالی وسائل کی کمی کے باعث مسلسل تاخیر کا شکار ہیں، جبکہ نئے منصوبوں کی رفتار بھی متاثر ہو رہی ہے۔

وفاقی سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے اجلاس کو بتایا کہ محدود مالی وسائل کے باعث ترقیاتی اسکیموں میں کٹوتی کرنا پڑتی ہے۔ ان کے مطابق رواں مالی سال کے ایک ہزار ارب روپے کے وفاقی ترقیاتی بجٹ میں سندھ کے مختلف منصوبوں کے لیے 192 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، تاہم سال کے اختتام پر فنڈز میں کمی ترقیاتی کاموں کی رفتار کو متاثر کرتی ہے۔

اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مختص بجٹ پر بھی ارکان نے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ اس شعبے کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی گئی۔

حیدرآباد تا سکھر ایم 6 موٹروے منصوبے پر گفتگو کے دوران ارکان نے وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی اور تاخیر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کے لیے اہم تجارتی اور مواصلاتی شاہراہ کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اس میں مزید تاخیر ناقابل قبول ہے۔

وفاقی سیکرٹری نے بتایا کہ منصوبے کی تکمیل کے لیے بیرونی مالیاتی اداروں سے وسائل حاصل کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے، جس کے باعث عمل میں وقت لگتا ہے۔ تاہم کمیٹی کے ارکان نے اس وضاحت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم اور متعلقہ وفاقی وزراء کو سندھ کے تحفظات سے آگاہ کیا جائے۔

اجلاس میں کراچی کی گریٹر واٹر سپلائی اسکیم کے فور (K-4) پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ مختلف قانونی اور تکنیکی مسائل کے باعث منصوبے کی تکمیل میں مزید دو سال لگ سکتے ہیں، جبکہ منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت 260 ملین گیلن یومیہ پانی کراچی کو فراہم کرنے کا ہدف دسمبر 2029 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

اس پیش رفت پر ارکان نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے منصوبے کا جائزہ لینے کے لیے فرحان چشتی کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا، جو تمام متعلقہ اداروں سے ملاقات کے بعد اپنی رپورٹ قائمہ کمیٹی کو پیش کرے گی۔

اجلاس میں گریٹر کراچی سیوریج پلان S-III اور ٹریٹمنٹ پلانٹس (TP-1، TP-2، TP-3، TP-4 اور TP-5) کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ ٹی پی ون، ٹو، تھری اور فور کے منصوبوں پر پیش رفت جاری ہے، تاہم ٹی پی فائیو، جس کی ذمہ داری کراچی پورٹ ٹرسٹ پر ہے، پر تاحال کام شروع نہیں ہو سکا۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی سید عبدالقادر گیلانی نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے حکام کی وضاحت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری پلاننگ، چیئرمین پی اینڈ ڈی سندھ اور چیئرمین کے پی ٹی کو اس معاملے پر مشترکہ اجلاس منعقد کرکے آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس کے اختتام پر سید عبدالقادر گیلانی نے کہا کہ کراچی میں اجلاس منعقد کرنے کا مقصد سندھ کو درپیش ترقیاتی مسائل اور تحفظات کا براہِ راست جائزہ لینا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ کمیٹی ارکان کی تجاویز اور خدشات قومی اسمبلی، وزیراعظم اور دیگر متعلقہ فورمز پر پیش کیے جائیں گے تاکہ صوبے کے ترقیاتی منصوبوں کو درپیش رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.