ایم کیو ایم پاکستان: فاروق ستار نے مطالبات پورے نہ ہونے پر اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا عندیہ دے دیا

اسلام آباد/کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے وفاقی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر لاپتہ کارکنوں کی بازیابی، آرٹیکل 140 اے پر عمل درآمد، سندھ کی گورنر شپ اور شہری ترقیاتی پیکج سمیت دیگر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو ان کی جماعت اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھ کر اپنے 22 ارکان کے لیے اپوزیشن بینچوں پر نشستیں مختص کرنے کی درخواست کرے گی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ 2022 میں پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدے پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دستخط کیے تھے، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف اس معاہدے کے ضامن اور گواہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وفاقی حکومت کے لیے "آخری وارننگ” ہے اور وزیر اعظم کو چاہیے کہ وہ معاہدے پر فوری عمل درآمد یقینی بنائیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کے انتظامی مسائل کے حل کے لیے وفاقی سطح پر ایک انتظامی یونٹ قائم کیا جائے۔ فاروق ستار نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے انہیں بتایا ہے کہ سندھ کے گورنر کو ہٹانے میں اس کا کوئی کردار نہیں، اس لیے وفاقی حکومت اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرے۔

دوسری جانب سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے فاروق ستار کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان سیاسی دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کی پریس کانفرنس سیاسی بلیک میلنگ کے مترادف ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ اگر کراچی سے متعلق وعدے پورے نہیں ہوئے تو ایم کیو ایم کو وفاقی حکومت اور اپنے اتحادیوں سے جواب طلب کرنا چاہیے، نہ کہ سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے معاملات وفاق کے سپرد کرنے کی تجویز وفاقی نظام کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق سندھ کے عوام نے پاکستان پیپلز پارٹی کو واضح عوامی مینڈیٹ دیا ہے، جسے کسی پریس کانفرنس، دھمکی یا سیاسی دباؤ سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

سینئر صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان اپنی سیاسی ناکامیوں کا ذمہ دار سندھ حکومت کو ٹھہرانے کے بجائے وفاق میں اپنے اتحادیوں سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کے بارے میں سوال کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!