کراچی: ولیکا اسپتال میں سامنے آنے والے ایچ آئی وی کیسز پر وزیر محنت، افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ اب تک 78 متاثرہ بچوں کا ڈیٹا سامنے آ چکا ہے اور اس معاملے میں غفلت یا کوتاہی کے ذمہ دار کسی بھی افسر، ڈاکٹر یا پیرا میڈیکل عملے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے بتایا کہ ستمبر 2025 میں محکمہ محنت کا قلمدان دوبارہ سنبھالنے کے بعد 28 اکتوبر 2025 کو یہ معاملہ ان کے علم میں آیا، جس کے فوری بعد انہوں نے اجلاس طلب کرکے تفصیلات حاصل کیں اور تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت دی۔
انہوں نے کہا کہ 29 اکتوبر 2025 کو تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کی ابتدائی سفارشات کی بنیاد پر بعض افسران کو معطل بھی کیا گیا۔ بعد ازاں 7 نومبر 2025 کو کچھ متاثرہ افراد نے صوبائی محتسب اعلیٰ سندھ سے رجوع کیا، جس کے بعد ان کی ہدایت پر ایک دوسری انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ان کے خیال میں اب تک سامنے آنے والے تمام کیسز 28 اور 29 اکتوبر 2025 سے پہلے کے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 78 بچوں کا ریکارڈ سامنے آیا ہے، جبکہ کچھ متاثرہ بچوں کے والدین تاحال تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے، اس لیے ان سے متعلق حتمی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
سعید غنی نے کہا کہ یہ ایک نہایت سنگین معاملہ ہے اور تحقیقات میں جس کی بھی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی، اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات محکمہ کو موصول ہو چکی ہیں اور ان پر قانونی و انتظامی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ بچوں کے لیے صرف مالی معاوضہ کافی نہیں، بلکہ سندھ حکومت ان کے مکمل علاج، طبی سہولتوں اور اہلِ خانہ کی ہر ممکن معاونت کو یقینی بنائے گی تاکہ وہ خود کو تنہا محسوس نہ کریں۔
ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ کیسز استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کی وجہ سے پیش نہیں آئے، کیونکہ اسپتال میں ایسی سرنجیں استعمال کی جاتی ہیں جو ایک بار استعمال کے بعد خودکار طور پر لاک ہو جاتی ہیں اور دوبارہ استعمال نہیں کی جا سکتیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت اس معاملے کی تہہ تک پہنچے گی اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔