کراچی چیمبرکی نومنتخب وزیراعظم اوروزرائے اعلیٰ کو مبارکباد

تشکُّر نیوز رپورٹنگ،

کراچی: بزنس مین گروپ (بی ایم جی) کے چیئرمین زبیر موتی والا اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر افتخار احمد شیخ نے وزیراعظم شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گزشتہ دور حکومت کے آخری چند دنوں کے دوران شروع کیے گئے نامکمل مذاکرات دوبارہ شروع کریں جب تمام وفاقی سیکرٹریوں کو کے سی سی آئی بھیجا گیا تھا جہاں کاروباری ماحول کو سازگار بنانے کے لیے متعدد اقدامات پر اتفاق کیا تو گیا لیکن ان میں سے بیشتر پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوا۔
چیئرمین بی ایم جی اور صدر کے سی سی آئی نے ارسال کیے گئے ایک خط میں یاد دلایا کہ پی این ایس ڈاکیارڈ میں ہونے والے اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف کی موجودگی میں وفاقی سیکرٹریوںکی یقین دہانیوں کے باوجود بیشتر مسائل آج تک حل طلب ہیں جبکہ بہت سے دیگر مسائل بھی وقت گزرنے کے ساتھ سامنے آئے ہیں باالخصوص توانائی کے بڑھتے ٹیرف نے صنعتوں اور ایس ایم ایز پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں جس پر وزیر اعظم کی مداخلت کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے یہ درخواست بھی کی کہ وہ وزیر اعظم بننے کے بعد کراچی کا پہلا دورہ کرتے ہی کراچی چیمبربھی تشریف لائیں جس کی بدولت تاجر برادری کو تمام زیر التوا مسائل کی نشاندہی کا بہترین موقع فراہم ہوگا جو وعدوں کے باوجود حل طلب ہیں۔دریں اثناء زبیر موتی والا اور افتخار احمد شیخ کے ساتھ ساتھ وائس چیئرمین بی ایم جی طاہر خالق، ہارون فاروقی، انجم نثار اور جاوید بلوانی، جنرل سیکرٹری اے کیو خلیل، سینئر نائب صدر الطاف اے غفار اور نائب صدر تنویر احمد باری نے شہباز شریف کو پاکستان کے 24ویں وزیر اعظم کے طور پر ذمہ داری سنبھالنے پر تہہ دل سے مبارکباد پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ کراچی کی پوری تاجر برادری کے لیے باعث فخر ہے کہ ایک تجربہ کار اور بصیرت رکھنے والے سیاستدان کو دوسری بار ملک کی قیادت کے لیے وزیر اعظم منتخب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کراچی کی تاجر برادری کی جانب سے وزیر اعظم آفس کو مکمل حمایت اور تعاون فراہم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم شہباز شریف جمہوریت کے ساتھ ساتھ معیشت کے استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات کریں گے جو اس وقت انتہائی نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔
بی ایم جی اور کے سی سی آئی کی قیادت نے مراد علی شاہ کو سندھ کے 25ویں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے چارج سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کے فور منصوبے کے لیے وفاقی فنڈ جاری کرنے کے وزیراعلیٰ سندھ کے حالیہ مطالبے کو سراہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مراد علی شاہ مضبوط آواز بلند کرتے رہیں گے اور وفاقی حکومت پر آئین کے آرٹیکل 158 پر مکمل عملدرآمد پر زور دیتے رہیں گے جس کا نفاذ خطرے میں دکھائی دے رہا ہے جبکہ صنعتوں کو شدید گیس قلت کا سامنا ہے اور انہیں غیر ضروری طور پر آر ایل این جی کی بڑھی ہوئی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے جس کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کی مداخلت ضروری ہے۔
انہوں نے مریم نواز کو پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے پر بھی دلی مبارکباد دیتے ہوئے کراچی کی تاجر برادری کی مکمل حمایت اور تعاون کا اظہارکیا اور امید ظاہر کی کہ وزیراعلیٰ مریم نواز پورے پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ صوبہ سندھ کے ساتھ بھی قریبی رابطے قائم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کریں گی۔
بی ایم جی اور کے سی سی آئی کی قیادت نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے نام مبارکباد کے خط میں امید ظاہر کی کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اسمگلنگ اور ڈرگ مافیا کی لعنت سے سختی سے نمٹنے کے لیے سندھ حکومت کے ساتھ مل کر ٹھوس اقدامات کریں گے۔ وہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر حکمت عملی وضع کرنے کے ساتھ ساتھ بعض انتہائی اہم ترقیاتی منصوبوں کو اولین ترجیح د یں گے تاکہ صوبہ بلوچستان کو ترقی حاصل ہو سکے ۔
بی ایم جی اور کے سی سی آئی کی قیادت نے کراچی کی تاجر برادری کی مکمل حمایت اور تعاون کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈا پور دونوں صوبوں اور خاص طور پروطن عزیز کی ترقی و خوشحالی کے لیے حکومت سندھ کے ساتھ قریبی ہم آہنگی کے ٹھوس اقدامات کریں گے۔ انہوں نے تمام وزرائے اعلیٰ کو کراچی چیمبر کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی تاکہ باہمی دلچسپی کے امور اور معیشت، تجارت و صنعت کو نقصان پہنچانے والے معاملات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!