غیر قانونی تعمیرات لیاقت آباد کا سسٹم چلانے والے زاہد کالا باز نہ آیا

تشکُّر نیوز رپورٹنگ،

کراچی: کراچی کے علاقے لیاقت آبادسی اور سی ون کو کنکریٹ کا جنگل بنانے والے کوئی اور نہیں پرانے سسٹم لوگ ہی نکلے زاہد کالا جو ہر دور میں سدا بہار رہا اور لوگوں کے بوٹ پالش کرکے اپنے غیر قانونی کام کرواتا رہا زاہد کالا ہر دور میں لیاقت آباد سی،سی ون،بی،بی ون،لیاقت آباد ایک سے پانچ اور پانچ سے دس بھی غیر قانونی تعمیرات کا زمیدار ہے۔زاہد کالا ایک تو غیر قانونی تعمیرات بھی کرواتا ہے اور ایس بی سی اے کے افسران کا فرنٹ مین بن کر لوگوں کو بلیک میل کر کے غیر قانونی تعمیرات کا پیسہ بھی جمع کرتا ہے ۔ان دونوں یہ غیر قانونی تعمیرات صبور سلیم کی ملی بھگت سے چلارہاہے ۔علاقے کے لوگوں کوہراساں کرنا ڈرانا دھمکانا ان کا وطیرہ ہے لیاقت آباد کو غیر قانونی تعمیرات سے تباہ کرنے والے زاہد کالا لیاقت آباد کارہائشی ہی نہیں ہے۔

لیاقت آباد کے لوگوں کو بے وقوف بنا کر دن بدن کروڑ پتی بن رہا ہے زاہد کالا تو زاہد کروڑپتی کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے لیاقت آباد میں غیر قانونی تعمیرات کا بے تاج بادشاہ بنا ہوا ہے۔ لیاقت آباد بی ایریا پلاٹ نمبر 14/12پر پینٹ ہائوس،لیاقت آباد نمبر تین پر 3/291,،پلاٹ نمبر 2/20،لیاقت آباد بلاک ساتھ7/253کی تمام غیر قانونی تعمیرات کا بے تاج بادشاہ یہ زاہد کالا ہے جس کو سندھ بلڈنگ کنٹرول کے افسران کی ہمیشہ سے پشت پناہی حاصل رہی ہے آسان زبان میں اس کو سندھ بلڈنگ کنٹرول کے افسران کا فرنٹ مین بھی کہا جاتا ہے ۔زاہد کالا اپنے ساتھیوں کے ساتھ ناظم آباد سے آکر لیاقت آباد میں غیر قانونی تعمیرات کے ٹھیکے اٹھاتاہے لیاقت آباد پر 60 گز اور 80 گز کے پلاٹوں پر غیر قانونی چھ منزلہ ملٹی یونٹس بنوانے میں پیش پیش ہیں اور ان تمام غیر قانونی تعمیرات میں سندھ بلڈنگ کنٹرول کا سیلم صبور بھی شامل ہے۔

جو کہ الائچی سسٹم کا خاص کارندہ ہے۔یہزاہد کالا ماضی میں بھی مختلف سسٹم کے چیہتہ رہاہے ۔ اور اب بھی زاہد کالا مسلسل لیاقت آباد میں غیر قانونی تعمیرات کا سب سے زیادہ زمیدار ہے ۔ لیاقت آباد کی عوام نگراںوزیر بلدیات مبین جمانی صاحب سے گزار ش کرتی ہے خدارایہ نگراں سیٹ اپ اپنی آنکھیں کھولیں اور اپنا غیر قانونی تعمیرات کے سسٹم کو ختم کرنے پر زور دے کراس رشوت ستانی کے بازار اور اس میں شامل زاہد کالے کے خلاف سخت کاروائی کرتے ہوئے اینٹی کرپشن اور نیب سے اپیل کرتی ہے کہ زاہد کالے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کروائی جائے اور اس کی نگرانی خود قانون نافذکرنے والے ادارے کریں۔ جاری ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!