سندھ میں مزدوروں کے تحفظ کے لیے قانون پر مؤثر عمل درآمد ضروری ہے، سعید غنی

وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ حکومت سندھ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور کام کی جگہوں پر حفاظت کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت کاروبار، صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا بھی چاہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ محفوظ اور صحت بخش حالاتِ کار مزدوروں کی عزتِ نفس، حقوق اور فلاح و بہبود کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

وہ مقامی ہوٹل میں پاکستان ایکارڈ کے تحت منعقدہ سالانہ پروگرام ’’کام کی جگہوں پر تحفظ کا مشترکہ فروغ‘‘ سے خطاب کر رہے تھے۔ سعید غنی تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔

اجلاس میں سیکریٹری محنت سندھ ساجد جمال ابڑو، سید ذوالفقار شاہ، سید نذیر علی، نجہیا رضا، ڈاکٹر سانگی، ڈاکٹر ذیشان، طارق معین، اسما اور دیگر شخصیات نے بھی خطاب کیا۔

پاکستان ایکارڈ کا ماڈل دیگر شعبوں تک پھیلانے پر زور

سعید غنی نے کہا کہ پاکستان ایکارڈ کی ٹیم نے عالمی برانڈز اور صنعت سے وابستہ اہم فریقین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔ یہ تمام فریق کام کی جگہوں پر صحت اور تحفظ کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹریڈ یونین کے پس منظر کی وجہ سے وہ مزدوروں کے مسائل کو قریب سے سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق محفوظ ماحول صرف قانونی تقاضا نہیں بلکہ مزدوروں کی عزت اور فلاح کا بنیادی حصہ ہے۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ پاکستان ایکارڈ کا ماڈل بنگلہ دیش میں رانا پلازا کے المناک حادثے کے بعد سامنے آیا تھا۔ اس واقعے نے گارمنٹس اور ٹیکسٹائل کی صنعت میں حفاظتی اقدامات اور جوابدہی کی ضرورت اجاگر کی۔

انہوں نے ستمبر 2012 کے بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کے واقعے کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سانحے نے واضح کیا کہ کام کی جگہ پر تحفظ کو نظرانداز کرنے کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔

سعید غنی نے کہا کہ ان واقعات کے بعد کچھ اہم اقدامات کیے گئے، تاہم ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت، کاروباری اداروں، عالمی برانڈز اور مزدوروں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایکارڈ نے بالخصوص ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے شعبے میں حفاظتی معیار بہتر بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ تاہم اس کا دائرہ کار زیادہ تر برآمدی فیکٹریوں اور مخصوص شعبوں تک محدود ہے۔

ان کے مطابق عمارتوں، فائر سیفٹی، الیکٹریکل سیفٹی اور بوائلر سیفٹی کے حوالے سے ایکارڈ کا تجربہ دیگر صنعتوں کے لیے بھی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کے تربیتی پروگرامز اور شکایات کے ازالے کا طریقہ کار بھی قابلِ استفادہ ہے۔

سندھ میں لیبر قوانین پر عمل درآمد کا چیلنج

سعید غنی نے کہا کہ سندھ میں پیشہ ورانہ تحفظ اور صحت کے لیے جامع قانونی فریم ورک موجود ہے۔ اس میں سندھ آکیوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ ایکٹ 2017 بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبے میں متعدد ترقی پسند لیبر قوانین متعارف کرائے گئے۔ ان قوانین کا مقصد مزدوروں کے حقوق کا تحفظ اور لیبر مارکیٹ کے مسائل سے نمٹنا ہے۔

تاہم ان کے مطابق صرف قانون سازی کافی نہیں۔ اصل ضرورت قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہے۔

صوبائی وزیر نے لیبر انسپیکشن کا نظام مضبوط بنانے اور عمل درآمد کے طریقہ کار کو بہتر کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری بھی ضروری ہے۔

عالمی برانڈز سے تعاون اور سرمایہ کاری کی دعوت

سعید غنی نے کہا کہ پاکستان ایکارڈ ماڈل کے تحت عالمی برانڈز محفوظ فیکٹریوں سے مصنوعات حاصل کرنے کے پابند ہیں۔ اس سے مقامی صنعت کاروں کو حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کی ترغیب ملتی ہے۔

انہوں نے عالمی برانڈز، مقامی تاجروں اور صنعت سے وابستہ افراد کو مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے تعاون کی دعوت دی۔

ان کا کہنا تھا کہ تجارتی اور مصنوعات کی خریداری کے تعلقات کو مزدوروں کے حقوق سے جوڑنا مثبت پیش رفت ہے۔ اس سے فیکٹریوں کو کام کے حالات بہتر بنانے اور قوانین کی پابندی کی ترغیب ملتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مزدوروں کے حقوق کا احترام صرف تجارتی تعلقات یا مصنوعات کی خریداری کی شرائط تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ہر مزدور کے ساتھ عزت و احترام کا سلوک اور اس کے بنیادی حقوق کا تحفظ قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ کام کی جگہوں کا تحفظ اور مزدوروں کے حقوق ذمہ دارانہ تجارت، پائیدار معاشی ترقی اور منصفانہ معاشرے کے لازمی عناصر ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ، خصوصاً کراچی میں صنعتی سرگرمیوں، تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ حکومت ایسے اقدامات کی حمایت کرے گی جو ذمہ دارانہ کاروباری طریقوں، مزدوروں کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کو فروغ دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!