ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بعض سہولت کاروں میں ایک نااہل اور لاتعلق صوبائی حکومت بھی شامل تھی۔ ان کے بقول انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنے والا ایک سہولت کار اب وہاں موجود نہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو 30 اکتوبر 2026 کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے واضح حکمت عملی موجود ہے۔ اس حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ملک کے اندر دہشت گردوں اور ان کے تمام سہولت کاروں کا خاتمہ ہے۔
خیبرپختونخوا میں روزانہ 200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق بعض مسائل پاکستان کو اندرونی طور پر بھی حل کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں کوئی بھی شخص انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کا مخالف نہیں۔ ان کی مخالفت وہی لوگ کرتے ہیں جن کا دہشت گردوں سے گٹھ جوڑ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں کسی بڑے فوجی آپریشن کے بجائے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جا رہے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز روزانہ تقریباً 200 ایسے آپریشن کرتی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں میں پولیس، فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر حصہ لیتے ہیں۔
افغانستان میں دہشت گردوں کے اڈوں کا دعویٰ
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اپنی تمام داخلی مشکلات کو بیرونی عوامل سے منسوب نہیں کرتا۔ ان کے مطابق پاکستان میں ہونے والی تمام دہشت گردی کی وجہ صرف افغانستان کو قرار نہیں دیا جاتا۔
تاہم انہوں نے افغانستان کو پاکستان میں دہشت گردی کا بنیادی اڈہ قرار دیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہاں دہشت گردوں کی قیادت، تربیتی کیمپ اور حملوں کے لیے لانچ پیڈز موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 20 برس سے دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے باعث پاکستان کو انسداد دہشت گردی کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔
احمد شریف چوہدری نے خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے صوبے کے لوگوں نے سب سے زیادہ مصائب برداشت کیے ہیں۔
ان کے بقول خیبرپختونخوا کے عوام بہادر ہیں اور پاکستانی معاشرے کا اہم حصہ ہیں۔ وہ اپنی روایات پر فخر کرتے ہیں اور امن و استحکام کے مستحق ہیں۔
حکومت کی تبدیلی آئینی طریقے سے ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر
انٹرویو کے دوران حکومت کی تبدیلی سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ سیاسی معاملہ ہے اور اس کا جواب سیاست دان بہتر دے سکتے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ فوج کے نزدیک حکومت کی تبدیلی آئینی اور قانونی ضوابط کے مطابق ہوئی تھی۔
بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانے کا الزام
بلوچستان کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے الزام عائد کیا کہ دہشت گرد اپنے آقاؤں کے اشاروں پر صوبے کی ترقی اور ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گرد مائننگ کے شعبے، ایل پی جی ٹرکوں، اسکولوں اور اساتذہ کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گرد پلوں اور ریلوے لائنوں کو بھی تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ معاشی سرگرمیاں متاثر ہوں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گرد ہر اس سرگرمی کو نشانہ بناتے ہیں جو مقامی آبادی کے لیے روزگار اور معاشی مواقع پیدا کرتی ہے۔
انہوں نے بلوچستان کی اشرافیہ پر بھی تنقید کی۔ ان کا الزام تھا کہ صوبے کی اشرافیہ عام لوگوں کو غریب اور ان پڑھ رکھ کر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتی ہے۔
احمد شریف چوہدری کے مطابق دہشت گرد اور اشرافیہ دونوں بلوچستان کے عوام کو غربت اور پسماندگی میں رکھنا چاہتے ہیں تاکہ محرومی کا بیانیہ برقرار رہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں اور اشرافیہ کے درمیان گٹھ جوڑ ہے، کیونکہ دونوں صوبے کی ترقی کے مخالف ہیں۔
This is really interesting, You’re a very skilled blogger. I’ve joined your feed and look forward to seeking more of your magnificent post. Also, I’ve shared your site in my social networks!