...

پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی پر محتاط انداز میں پرامید ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے اپنے کردار کے حوالے سے محتاط انداز میں پرامید ہے۔

غیرملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایران کے حالیہ دو دوروں پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ دورے مثبت نہ ہوتے تو فیلڈ مارشل دو مرتبہ ایران کیوں جاتے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دونوں دورے مثبت تھے، تاہم پاکستان اس معاملے پر ہمیشہ محتاط انداز اختیار کرتا ہے۔

انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ اب بھی کچھ طاقتور عناصر موجود ہیں جو نقصان پہنچا رہے ہیں اور رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ تنازع ان کے مفاد میں ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایران کے ساتھ ہونے والی گفتگو اور امریکا کی حمایت سے متعلق تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایران کے دورے

حالیہ دنوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سعودی عرب اور ترکیے کے عہدیداروں کے ہمراہ تہران کا دورہ کیا تھا۔ وہاں انہوں نے ایران کے اعلیٰ عسکری حکام اور وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔

ان کے ہمراہ سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان اور ترک خفیہ ایجنسی کے سربراہ ابراہیم کالین بھی موجود تھے۔

ایران کی مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت

مکہ دفاعی معاہدے میں ایران کی ممکنہ شمولیت سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ معاہدے کا متن کسی نئے رکن کی شمولیت کی ممانعت نہیں کرتا۔

ان کا کہنا تھا کہ جو بھی مشترکہ دفاع اور علاقائی امن کے وژن سے اتفاق کرتا ہے، اس کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ تاہم ایران کی شمولیت کا فیصلہ تینوں بنیادی فریقین کی سیاسی قیادت نے کرنا ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے نے رواں برس 7 اگست کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے مطابق کسی ایک ملک پر حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

ایران کے دورے کے بعد ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا تھا کہ خطے کی سلامتی بیرونی مداخلت کے بغیر علاقائی ممالک کو خود یقینی بنانی چاہیے۔

سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی

مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی سے متعلق سوال پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اس کا انحصار حالات اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کے فیصلے پر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور مکہ و مدینہ کے مقدس مقامات کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔ پاکستان یمن کے تنازع کا حصہ نہیں، کیونکہ یہ یمن کا اندرونی معاملہ ہے۔

خیبرپختونخوا میں انسداد دہشت گردی کارروائیاں

خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد کسی بڑے فوجی آپریشن کے امکانات سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فوج انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں اس انداز میں نہیں کرتی۔

انہوں نے بتایا کہ فوج کے انسداد دہشت گردی آپریشنز انٹیلی جنس بیسڈ ہوتے ہیں۔ ان کارروائیوں کی آزادانہ رفتار مزید بڑھائی جائے گی۔

واضح رہے کہ فراہم کردہ خبر کے مطابق وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر 2026 کو خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ اس دوران پاکستان تحریک انصاف کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر اہم رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا۔

وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت پر دہشت گردی کی روک تھام میں ناکامی اور وفاق سے تعاون نہ کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔ پی ٹی آئی نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.