وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کاروبار اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ضابطہ جاتی اصلاحات تیز کرنے، سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل بنانے اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط کرنے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اصلاحات سے کاروباری اداروں کے لیے منظوریوں کا عمل آسان، اخراجات کم اور سرمایہ کاری کا ماحول زیادہ شفاف ہونا چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے بدھ کو وزیراعظم کی ریگولیٹری اصلاحات سے متعلق رابطہ کمیٹی کے وفد سے ملاقات کی۔ اجلاس میں سندھ میں کاروباری سہولت کاری کے اقدامات، منظور شدہ اصلاحات پر عمل درآمد، مجوزہ سندھ آسان کاروبار ایکٹ اور وفاقی و صوبائی کاروباری پورٹلز کو مربوط کرنے کے امور کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں عالمی بینک کے بزنس ریڈی (B-READY) فریم ورک کے تحت پاکستان کی کارکردگی بہتر بنانے کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
سندھ بزنس ون اسٹاپ شاپ سے 16 ہزار 500 سے زائد اجازت نامے جاری
مراد علی شاہ نے اجلاس کو سندھ بزنس ون اسٹاپ شاپ کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کاروبار کی رجسٹریشن، لائسنس کے اجرا اور مختلف ضابطہ جاتی منظوریوں کے عمل کو ایک جگہ فراہم کرتا ہے۔
پلیٹ فارم کے ذریعے سندھ حکومت کے 19 محکموں کی تقریباً 150 کاروباری خدمات کو خودکار بنایا گیا ہے۔ ان خدمات میں الیکٹرانک درخواستیں، ادائیگیاں، تصدیق اور سرٹیفکیٹس کا اجرا شامل ہے۔
بریفنگ کے مطابق پلیٹ فارم سے اب تک 16 ہزار 500 سے زائد الیکٹرانک اجازت نامے جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ 800 سے زائد سرکاری افسران کو تربیت دی گئی ہے۔ اس نظام کا مقصد شہریوں اور کاروباری اداروں کے سرکاری دفاتر کے بار بار چکر کم کرنا، دستاویزات کی تکرار ختم کرنا اور طریقہ کار میں شفافیت بڑھانا ہے۔
اجلاس میں سندھ بزنس ون اسٹاپ شاپ کو وفاقی پاکستان بزنس پورٹل سے منسلک کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ اس اقدام سے سرمایہ کاروں کو وفاقی اور صوبائی خدمات تک ایک مربوط ڈیجیٹل نظام کے ذریعے رسائی فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
58 ضابطہ جاتی اصلاحات سے اخراجات میں بچت کا تخمینہ
اجلاس میں رابطہ کمیٹی کے اصلاحاتی پیکیج نمبر 7 کے تحت منظور شدہ 58 اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں ماہی گیری اور آبی زراعت کے شعبوں کے لیے 43، جبکہ ڈیری اور مشروبات کے شعبوں کے لیے 15 اصلاحات شامل ہیں۔
بریفنگ کے مطابق ان اصلاحات سے ماہی گیری اور آبی زراعت کے شعبے میں کارروائی کے وقت میں تقریباً 798 دن اور ڈیری و مشروبات کے شعبے میں 643 دن کی بچت متوقع ہے۔
تعمیلی اخراجات میں سالانہ بچت کا تخمینہ ماہی گیری اور آبی زراعت کے لیے 8 ارب 97 کروڑ روپے، جبکہ ڈیری اور مشروبات کے شعبے کے لیے 58 ارب 41 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔
ان اصلاحات کے تحت منظوریوں کا طریقہ کار آسان بنانے، غیر ضروری معائنے اور تجدید کے تقاضے کم کرنے، دہرائی جانے والی دستاویزات ختم کرنے اور ڈیجیٹل درخواستوں و نگرانی کے نظام کو وسعت دینے کی تجاویز شامل ہیں۔
ماہی گیری کے شعبے میں کشتیوں کی رجسٹریشن اور اجازت ناموں کے عمل کو آسان بنانے پر غور کیا گیا۔ ڈیری اور مشروبات کے شعبے میں لائسنسنگ اور مصنوعات کی رجسٹریشن کے مراحل کم کرنے کے ساتھ خوراک کے تحفظ کے معیارات برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ قومی سطح پر آٹھ اصلاحاتی پیکیجز کے تحت 581 اصلاحات کی توثیق کی جا چکی ہے۔ ان سے کاروباری اداروں کے تعمیلی اخراجات میں سالانہ ایک کھرب 63 ارب روپے سے زائد بچت متوقع ہے۔
بی ریڈی فریم ورک کے تحت سندھ کے 173 اشاریے
اجلاس میں عالمی بینک کے بزنس ریڈی اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت سندھ کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس فریم ورک میں کراچی کو پاکستان کے نمائندہ شہر کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
بریفنگ کے مطابق سندھ سے متعلق 173 اشاریوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں سے 12 پر عمل درآمد مکمل ہونے کی اطلاع دی گئی، جبکہ 161 پر مزید کام باقی تھا۔ نگرانی کے فریم ورک میں 9 اشاریوں کو جزوی طور پر نافذ شدہ بھی قرار دیا گیا۔
ان اشاریوں میں کاروبار کے لیے جگہ کا انتخاب، یوٹیلیٹی خدمات، محنت، ٹیکس، تنازعات کا حل، مارکیٹ میں مسابقت اور کاروباری دیوالیہ پن جیسے معاملات شامل ہیں۔
ایکشن پلان کے تحت سندھ سے متعلق 99 اصلاحات کی نشاندہی کی گئی، جبکہ 74 اقدامات کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مشترکہ تعاون کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اصلاحات پر پیش رفت کی باقاعدہ نگرانی کریں اور عمل درآمد کی ذمہ داریاں واضح بنائیں۔
سندھ آسان کاروبار ایکٹ اور نیا اصلاحاتی سیل
وزیراعلیٰ سندھ نے مجوزہ سندھ آسان کاروبار ایکٹ پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ اس قانون کا مقصد ضابطہ جاتی اصلاحات کو ادارہ جاتی شکل دینا اور صوبائی نظام کو وفاقی حکومت کے کاروباری سہولت کاری کے اقدامات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
بریفنگ کے مطابق مجوزہ قانون کا مسودہ محکمہ قانون کی جانچ پڑتال کے مراحل میں تھا، جس کے بعد اسے غور کے لیے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیے جانے کی توقع تھی۔
اجلاس میں مجوزہ انویسٹمنٹ کلائمیٹ امپروومنٹ سیل کے قیام کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس سیل کا مقصد اصلاحات پر عمل درآمد کی نگرانی، صوبائی محکموں کے درمیان رابطہ مضبوط بنانے اور کاروباری اداروں کو درپیش رکاوٹیں دور کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
اس سیل کے لیے بھرتیوں کا عمل انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی کے ذریعے جاری تھا۔ بریفنگ میں توقع ظاہر کی گئی کہ دسمبر 2026 تک اس کی ٹیم تشکیل دے دی جائے گی۔
وفاقی و صوبائی رابطے پر زور
وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے قومی ضابطہ جاتی اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان قریبی رابطے کی اہمیت اجاگر کی۔
انہوں نے کاروباری طریقہ کار آسان بنانے، غیر ضروری ضابطہ جاتی رکاوٹیں ختم کرنے، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو مضبوط کرنے اور نجی شعبے کی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کا ماحول بہتر بنانے پر زور دیا۔
وفاقی وفد میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل ساجد امین، کونسل کے سیکریٹری جمیل احمد قریشی اور پاکستان انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رضوان بھٹی سمیت دیگر حکام شامل تھے۔
سندھ حکومت کی جانب سے صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو، وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی سید قاسم نوید، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی، کاروباری سہولت کاری اور سرمایہ کاروں کے لیے شفاف و قابلِ پیش گوئی ماحول کی تشکیل کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اصلاحات کے نتائج کاروباری اداروں کے لیے آسان طریقہ کار، منظوریوں میں تیزی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کی صورت میں سامنے آنے چاہییں۔