کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن میں مبینہ مالیاتی بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ محکمہ لوکل فنڈ آڈٹ کے مطابق ادارے میں لازمی پیشگی آڈٹ کے بغیر چیک جاری کیے گئے۔ اس معاملے پر آڈٹ حکام نے سندھ حکومت کو باضابطہ خط بھی ارسال کیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ متعدد یاد دہانیوں کے باوجود واٹر کارپوریشن کی انتظامیہ نے مطلوبہ مالیاتی ریکارڈ فراہم نہیں کیا۔ اس میں بل، چیک رجسٹر، جنرل کیش بک اور دیگر دستاویزات شامل ہیں۔
آڈٹ حکام نے مالیاتی قواعد کی خلاف ورزی کی نشاندہی کردی
اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل فنڈ آڈٹ کے خط کے مطابق پیشگی آڈٹ کے بغیر چیک جاری کرنا مالیاتی نگرانی کے نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس سے ادائیگیوں کی قانونی حیثیت اور اخراجات کے درست استعمال کی جانچ بھی مشکل ہو سکتی ہے۔
خط میں سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2023 اور سندھ لوکل کونسلز اکاؤنٹس رولز 1983 کے قواعد 69 اور 70 کا حوالہ دیا گیا ہے۔ آڈٹ حکام نے 9 دسمبر 2025 کے حکومتی حکم نامے کا بھی ذکر کیا ہے۔
دستاویز کے مطابق اس معاملے پر 22، 29 اور 30 جنوری اور 6 اگست 2026 کو بھی خطوط جاری کیے گئے تھے۔ تاہم، آڈٹ حکام کا کہنا ہے کہ مطلوبہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔
بینک کو ادائیگیوں سے پہلے آڈٹ کی ہدایت دینے کا مطالبہ
خط میں بتایا گیا ہے کہ واٹر کارپوریشن کے تمام اکاؤنٹس حبیب بینک لمیٹڈ میں قائم ہیں۔ آڈٹ حکام نے مطالبہ کیا ہے کہ بینک کو واضح ہدایات دی جائیں۔
ان ہدایات کے تحت لوکل فنڈ آڈٹ کی لازمی پیشگی جانچ اور منظوری کے بغیر بلوں اور چیکوں کی ادائیگی نہ کی جائے۔ حکام نے محکمہ خزانہ سندھ، محکمہ بلدیات سندھ اور بینک کے متعلقہ افسران سے بھی مداخلت کی درخواست کی ہے۔
آڈٹ حکام کے مطابق ریکارڈ کی عدم فراہمی سے مالیاتی نظم و ضبط اور اندرونی نگرانی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں اخراجات کی قانونی حیثیت اور رقم کے درست استعمال کی تصدیق بھی مشکل ہو سکتی ہے۔
اعلیٰ حکام کو معاملہ بھیجنے کی سفارش
آڈٹ حکام نے معاملہ اعلیٰ حکام کے نوٹس میں لانے کی سفارش کی ہے۔ خط کی نقول واٹر کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، ڈائریکٹر اکاؤنٹس اور متعلقہ حکام کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔
ادارے کے بعض سینئر افسران نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سرکاری قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرنے سے انتظامی اور مالی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم، ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ رپورٹ میں موجود نہیں۔
چیف فنانس آفیسر کا مؤقف
اس معاملے پر واٹر کارپوریشن کے چیف فنانس آفیسر سے مؤقف لیا گیا۔ انہوں نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل فنڈ آڈٹ کے خط کو غیر اہم قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ادائیگیوں کا آڈٹ واٹر کارپوریشن کے مقرر کردہ چیف انٹرنل آڈیٹر سے کرایا جاتا ہے۔ اسی لیے ان کے مطابق دو الگ آڈٹ کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
یوں پیشگی آڈٹ کے طریقہ کار اور مالیاتی ریکارڈ کی فراہمی پر آڈٹ حکام اور واٹر کارپوریشن کی انتظامیہ کے مؤقف میں اختلاف سامنے آیا ہے۔