کراچی فریمز 2026 میں پاکستان کی اینیمیشن اور ڈیجیٹل تخلیقی صنعت کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا گیا۔ تقریب میں معروف اینیمیشن اسٹوڈیوز، ماہرین، فن کاروں اور طلبہ نے شرکت کی۔ اس پلیٹ فارم نے مقامی صلاحیتوں کو عالمی مواقع سے جوڑنے پر توجہ دی۔
یہ تقریب این ای ڈی آڈیٹوریم اور سینٹر آف ایکسیلینس اِن گیمنگ اینڈ اینیمیشن (CEGA)، کراچی میں منعقد ہوئی۔ سیگا نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور اگنائٹ نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ کے تعاون سے اس کا اہتمام کیا۔ ہم نیٹ ورک لمیٹڈ نے لیڈ مینجمنٹ اور میڈیا پارٹنر کے طور پر تعاون کیا۔
سیگا کا قومی اینیمیشن ایکو سسٹم بنانے کا منصوبہ
سیگا کے پراجیکٹ ڈائریکٹر سید بلال قاسم نے کہا کہ ادارے کا مقصد صرف تربیت فراہم کرنا نہیں۔ وہ پاکستان میں ایک مضبوط قومی اینیمیشن ایکو سسٹم تشکیل دینا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ نظام نئے مواقع پیدا کرے گا اور جدت کو فروغ دے گا۔ سیگا کا ہدف 200 اسٹارٹ اپس کی انکیوبیشن سمیت تخلیقی صنعت کی ترقی میں کردار ادا کرنا ہے۔
ہم نیٹ ورک لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر درید قریشی نے عالمی اینیمیشن انڈسٹری میں پاکستان کے امکانات پر روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق، عالمی صنعت کی مالیت تقریباً 350 ارب ڈالر ہے۔ تاہم، پاکستان کا حصہ اب بھی 100 ملین ڈالر سے کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس نوجوان افرادی قوت، تخلیقی صلاحیتیں اور ٹیکنالوجی تک رسائی موجود ہے۔ ملک کو صرف ڈیجیٹل مواد استعمال کرنے کے بجائے اس کی تخلیق اور برآمدات پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
درید قریشی نے اعلان کیا کہ ہم نیٹ ورک جلد ایک اینیمیٹڈ چینل شروع کرے گا۔ اس چینل میں مقامی کرداروں کو ترجیح دی جائے گی۔
سلطانہ صدیقی کا نوجوانوں کے لیے پیغام
ہم نیٹ ورک کی چیئرپرسن سلطانہ صدیقی نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تربیت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے نظم و ضبط، دیانت داری، وقت کی پابندی اور محنت کو کامیابی کے لیے ضروری قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے بے شمار کہانیاں ہیں۔ ان میں سائنس دانوں، ماؤں، قومی ہیروز، ثقافت اور روایات سے متعلق کہانیاں شامل ہیں۔ انہوں نے نوجوان فن کاروں کو اپنی تخلیقی صلاحیتیں استعمال کرنے اور پاکستان کی شناخت اجاگر کرنے کی ترغیب دی۔
گیمنگ اور اینیمیشن میں معاشی ترقی کے مواقع
این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر اور جامعہ کراچی کے قائم مقام وائس چانسلر توفیق جوکھیو نے گیمنگ اور اینیمیشن کی اہمیت پر بات کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو برآمدات بڑھانے اور زرمبادلہ کمانے والی صنعتوں کو مضبوط بنانا چاہیے۔ ان کے مطابق، آئی ٹی کا شعبہ ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ گیمنگ اور اینیمیشن کو صرف تفریح تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ یہ ٹیکنالوجیز انجینئرنگ اور دیگر شعبوں میں بھی استعمال ہوسکتی ہیں۔
اینیمیشن انڈسٹری کے مستقبل پر سیشنز
کراچی فریمز 2026 میں فریم ٹاکس کے تحت مختلف سیشنز منعقد ہوئے۔ ایس او سی فلمز میں اینیمیشن اینڈ اے آئی کے سربراہِ پروڈکشن کامران خان نے پاکستان کی اینیمیشن انڈسٹری کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات پر گفتگو کی۔
میکو اینیمیشن کے انس حسین، انوویٹو پکسلز کے مرسب فضلانی اور شارپ امیج کے امین نے ایک پینل میں شرکت کی۔ پیرانی پروڈکشنز کے شہزار عبرو نے اس نشست کی میزبانی کی۔ شرکا نے مقامی اسٹوڈیوز کے قیام، بین الاقوامی منصوبوں کے حصول اور عالمی مسابقت کے تقاضوں پر تبادلہ خیال کیا۔
ایک الگ سیشن میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار کا جائزہ لیا گیا۔ ماہرین نے اے آئی سے تیار کردہ اینیمیشن کے امکانات، چیلنجز اور اخلاقی پہلوؤں پر اپنی آرا پیش کیں۔
مقامی اسٹوڈیوز اور فن کاروں کی صلاحیتوں کی نمائش
اسٹوڈیو پلس کے تحت شارپ امیج، انوویٹو پکسلز، پیرانی پروڈکشنز اور میکو اینیمیشن کے تخلیقی کام پیش کیے گئے۔ فریم میکرز کے سیشن میں ان فن کاروں کے تخلیقی سفر کو اجاگر کیا گیا جو پاکستان کی اینیمیشن انڈسٹری کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
ایک اور سیشن میں بین الاقوامی اسٹوڈیوز کے لیے تربیت یافتہ افرادی قوت کی تیاری پر گفتگو ہوئی۔ انوویٹو پکسلز، پیرانی پروڈکشنز اور بینکو لیبز کے نمائندوں نے اپنے تجربات شیئر کیے۔ انہوں نے مقامی فن کاروں کی مہارتوں، پورٹ فولیوز اور پروڈکشن کے تجربے کو بہتر بنانے کے طریقوں پر روشنی ڈالی۔
تقریب میں دی گیلری اَن فریمڈ کے تحت کرداروں کے فن پارے، ڈیجیٹل تخلیقات اور دیگر نمونے پیش کیے گئے۔ فریم چیک کے ذریعے نئے فن کاروں کو اپنے پورٹ فولیوز پر ماہرین سے رائے لینے کا موقع ملا۔ انہیں معروف اسٹوڈیوز سے رہنمائی بھی حاصل ہوئی۔
اینیمیشن شوکیس میں تین بہترین تخلیقات کا انتخاب
سیگا سینٹر میں دی اینی ورس کے عنوان سے اینیمیشن شوکیس منعقد ہوا۔ اس میں منتخب مختصر فلمیں پیش کی گئیں۔ ان میں 2D اور 3D اینیمیشن، موشن گرافکس اور کہانی بیان کرنے کے مختلف تخلیقی انداز شامل تھے۔
جیوری نے تین بہترین تخلیقات منتخب کیں۔ ان تخلیقات کو ہم نیٹ ورک کے پلیٹ فارمز پر تشہیر اور نمائش کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
کراچی فریمز 2026 نے پاکستان کی اینیمیشن انڈسٹری کے امکانات اور عالمی ترقی کے مواقع کو اجاگر کیا۔ تقریب نے اسٹوڈیوز، ماہرین اور نئے فن کاروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اس نے مقامی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی اہمیت بھی نمایاں کی۔






