...

خواتین کی معاشی خودمختاری: سعید غنی نے مساوی مواقع اور مزدوروں کے تحفظ پر زور دے دیا

صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانا صرف مساوات کا معاملہ نہیں، بلکہ پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے بھی ضروری ہے۔ خواتین کو عزت، تحفظ اور مساوی مواقع فراہم کرکے ملکی معیشت میں ان کی شراکت بڑھائی جاسکتی ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار مقامی ہوٹل میں منعقدہ دو روزہ کانفرنس Shevolution 3.0 کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کا اہتمام اقوام متحدہ کے صنعتی ترقی کے ادارے (UNIDO)، یورپی یونین اور پائیدار پروگرام PAIDAR کے اشتراک سے کیا گیا۔ اس موقع پر سندھ کرافٹ بازار اور نمائش بھی منعقد ہوئی۔

خواتین کاروباری افراد کو مواقع فراہم کرنے پر زور

سعید غنی نے کانفرنس، بازار اور نمائش کے انعقاد پر صاحبزادی ماہین خان اور ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کورنگی کراچی کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے خواتین کاروباری افراد اور کاریگروں کی محنت، تخلیقی صلاحیت اور عزم کو بھی سراہا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ خواتین کو کاروبار قائم کرنے، مالی وسائل حاصل کرنے، مہارتیں بہتر بنانے اور منڈیوں تک رسائی کے مواقع ملیں تو اس کے مثبت اثرات خاندانوں، برادریوں اور مجموعی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق خواتین کو اب بھی مالی وسائل، کاروباری رہنمائی، ٹیکنالوجی، پیداواری اثاثوں اور منڈیوں تک رسائی میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ غیر رسمی معیشت میں کام کرنے والی خواتین کو مزدوروں کے حقوق اور سماجی تحفظ کے حصول میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔

گھریلو اور زرعی شعبوں میں خواتین کے حقوق

سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت گھریلو اور زرعی شعبوں میں کام کرنے والی خواتین سمیت تمام محنت کشوں کے تحفظ کی اہمیت تسلیم کرتی ہے۔ مزدور قوانین پر مؤثر عمل درآمد، حقوق سے متعلق آگاہی اور محفوظ ماحول کی فراہمی اس مقصد کے اہم حصے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ، باوقار روزگار کا فروغ اور سماجی تحفظ کو مضبوط بنانا جامع ترقی کے لیے ضروری ہے۔ حکومت، آجروں، مالیاتی اداروں، کاروباری انجمنوں اور ترقیاتی شراکت داروں کو اس مقصد کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔

خواتین کے کاروبار اور ہنر کی ترقی ضروری

صوبائی وزیر نے کہا کہ خواتین کو اپنے علم، تخلیقی صلاحیت اور محنت کو پائیدار روزگار اور کامیاب کاروبار میں بدلنے کے مواقع ملنے چاہئیں۔ اس کے لیے ڈیجیٹل مہارتوں، تکنیکی معاونت، کاروباری رہنمائی اور خریداروں و سپلائرز تک رسائی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کاریگروں کے پاس روایتی علم اور تخلیقی مہارتوں کا قیمتی سرمایہ موجود ہے۔ مصنوعات کے معیار، برانڈنگ، ڈیجیٹل رسائی اور مارکیٹنگ میں معاونت سے ان کی آمدنی بڑھائی جاسکتی ہے۔ اس عمل سے ثقافتی ورثے کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔

سعید غنی کے مطابق خواتین کی زیرِ قیادت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو بھی وسعت دینے کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ ایسے اقدامات مقامی کاروبار مضبوط بنانے اور خواتین و نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

معاشی خودمختاری کے نتائج قابلِ پیمائش ہوں

سعید غنی نے کہا کہ Shevolution 3.0 خواتین کاروباری افراد، کاریگروں، اداروں، سرمایہ کاروں اور ممکنہ کاروباری شراکت داروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا اہم موقع ہے۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ کانفرنس کے بعد بھی تعاون اور شراکت داری جاری رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کی معاشی خودمختاری کا مقصد ان کی آمدنی بہتر بنانا، کاروبار کو پائیدار بنانا اور باوقار روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ دیہی خواتین، نوجوان کاروباری افراد، خواتین کاریگروں اور معذور خواتین کو بھی ترقی کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ کامیابی کا اندازہ صرف تربیت حاصل کرنے والی خواتین یا معاونت پانے والے کاروباروں کی تعداد سے نہیں لگانا چاہیے۔ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ خواتین کی آمدنی میں کتنا اضافہ ہوا، کاروبار کتنے پائیدار ہوئے، کتنی باوقار ملازمتیں پیدا ہوئیں اور خواتین اپنے معاشی فیصلوں میں کتنی خودمختار ہوئیں۔

کانفرنس میں یورپی یونین کے وفد، UNIDO، ویمن ان بزنس نیٹ ورک جرمنی، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری، کاروباری انجمنوں، سرکاری اداروں، نجی شعبے، سول سوسائٹی اور ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.