سعودی عرب: آر فور ممالک کی حوثی حملوں کی مذمت، خودمختاری کی حمایت کا اعادہ

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، استنبول میں آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ کا چھٹا اجلاس ہوا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

اجلاس میں ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فیدان، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور مصری وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی بھی شریک ہوئے۔

مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر تبادلہ خیال

دفتر خارجہ کے مطابق، وزرائے خارجہ نے نیویارک میں گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی علاقائی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال اور سکیورٹی چیلنجز پر خصوصی توجہ دی گئی۔

چاروں ممالک نے تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی اہمیت پر زور دیا۔ شرکا نے علاقائی رابطہ کاری بہتر بنانے اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

اجلاس میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

آر فور اور ای فور ممالک کا مشترکہ اجلاس

استنبول میں آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ نے ای فور ممالک کے نمائندوں کے ساتھ بھی اجلاس میں شرکت کی۔ ای فور میں فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ شامل ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، اجلاس میں خلیج کی صورت حال کے سماجی اور اقتصادی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ شرکا نے خطے میں امن و سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اسحاق ڈار نے اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ پاکستان کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے سفارتی رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے۔

اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ نے اس معاملے پر رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

اسحاق ڈار کی جرمن وزیر خارجہ سے ملاقات

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے استنبول میں اجلاس کے موقع پر جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فول سے بھی ملاقات کی۔

دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور جرمنی کے دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اسحاق ڈار نے مختلف شعبوں میں تعاون اور مسلسل رابطوں کے ذریعے تعلقات مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

ملاقات میں علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی بات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور عالمی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔

اسحاق ڈار نے آر فور ممالک کے ساتھ جرمنی، فرانس، اٹلی اور برطانیہ کے تعمیری روابط کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اہم علاقائی امور پر مسلسل مشاورت اور سفارتی رابطہ کاری جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!