سانحہ گل پلازہ کیس میں قتل کی دفعہ شامل کرنے کی درخواست پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے دکانداروں کی درخواست کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران ملزمان تنویر پاستا، رمضان، امین، عمار، نعمت اللہ اور حذیفہ عدالت میں پیش ہوئے۔
دکانداروں کے وکیل کا مؤقف
دکانداروں کے وکیل عبدالقئیوم قادری ایڈووکیٹ نے درخواست کے حق میں دلائل دیے۔
انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کا معاملہ بلدیہ فیکٹری کیس سے مماثلت رکھتا ہے۔
وکیل نے مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے دکانداروں کو بھی مقدمے میں فریق بنانے کی درخواست کی۔
درخواست کی مخالفت
جاوید میر ایڈووکیٹ نے درخواست کی مخالفت کی۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست قابل سماعت نہیں۔
ان کے مطابق بلدیہ فیکٹری اور گل پلازہ کے واقعات مختلف ہیں۔
وکیل صفائی نے کہا کہ بلدیہ فیکٹری میں فاسفورس کیمیکل استعمال ہوا تھا۔
ان کے مطابق گل پلازہ کا واقعہ ایک حادثہ ہے۔
پراسیکیوٹر کا مؤقف
پراسیکیوٹر حسن بھٹی نے بھی درخواست مسترد کرنے کی استدعا کی۔
انہوں نے بلدیہ فیکٹری کیس اور گل پلازہ کیس کے حالات میں فرق بیان کیا۔
پراسیکیوٹر کے مطابق دکانداروں کی درخواست قابل سماعت نہیں۔
تمام وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔