کراچی سمیت ملک بھر میں مزید انتظامی یونٹس کے قیام کی تجاویز پر آئینی اور قانونی دائرے میں سنجیدہ قومی بحث ہونی چاہیے۔ Friends of Karachi کے بانی محمد فیضان راوت نے کراچی لائرز ایکشن کمیٹی کے پروگرام ’’کراچی کا مقدمہ‘‘ میں خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
محمد فیضان راوت کے مطابق کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی، شہری پھیلاؤ اور انتظامی ضروریات موجودہ نظام کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں مزید صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی تجاویز پر کھلے دل سے غور ہونا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ کسی سیاسی جماعت کے خلاف مہم یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں۔ ان کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان سمیت تمام سیاسی جماعتوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اس موضوع پر کھل کر بات کرنی چاہیے اور عوام کو بہتر گورننس اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر نظام تلاش کرنا چاہیے۔
محمد فیضان راوت نے کہا کہ ایک وزیر کے ماتحت ہزاروں اداروں اور وسیع انتظامی نظام کی نگرانی ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔ ان کے مطابق اختیارات اور انتظامی ذمہ داریوں کی مؤثر تقسیم پر غور وقت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، اسمبلیوں، سیاسی جماعتوں، ماہرین اور دیگر متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کو لسانی، نسلی یا جماعتی بنیادوں پر دیکھنے کے بجائے گورننس، آبادی، وسائل اور عوامی ضروریات کی بنیاد پر زیرِ بحث لائیں۔
انہوں نے کراچی کی تاجر برادری سے بھی آل تاجران کانفرنس منعقد کرکے انتظامی نظام سے متعلق تجاویز اور اجتماعی رائے سامنے لانے کی اپیل کی۔
محمد فیضان راوت نے کہا، ’’کراچی کا مقدمہ ہم سب کا مقدمہ ہے۔ ہمیں مستقبل کے انتظامی نظام پر آج سنجیدگی سے فیصلہ کن گفتگو شروع کرنا ہوگی۔‘‘








