...

میر رضا کیس جوڈیشل کمیشن کی سابق تفتیشی افسر شبیر لغاری سے سخت پوچھ گچھ

میر رضا کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے سابق تفتیشی افسر شبیر لغاری سے سخت سوالات کیے۔

کمیشن نے کیس کی تفتیش اور شواہد سے متعلق تفصیلات طلب کیں۔ سی سی ٹی وی، موبائل فون، ایپل واچ اور کرائم سین بھی زیر بحث آئے۔

کمیشن نے میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد بھاردے کو بھی روسٹرم پر طلب کیا۔ ان سے سوشل میڈیا پر دیے گئے انٹرویوز سے متعلق سوالات کیے گئے۔

احمد بھاردے سے بھی سوالات

کمیشن نے کہا کہ میر رضا احمد بھاردے کے اچھے دوست تھے۔ کمیشن کے مطابق دوستوں کو خاندان کے مسائل کا علم ہوسکتا ہے۔

کمیشن نے احمد بھاردے سے سچ بتانے پر زور دیا۔ انہیں حلف نامے کے ذریعے اپنا مؤقف دینے کا موقع بھی دیا گیا۔

کمیشن نے احمد بھاردے کو میر رضا کے اہلخانہ سے ملاقات کی تجویز دی۔ احمد بھاردے نے کہا کہ وہ اہلخانہ سے ملاقات کریں گے۔

احمد بھاردے کے وکیل خالد ممتاز نے بھی میڈیا سے گفتگو کی۔ ان کے مطابق بھاردے جلد میر رضا کے اہلخانہ سے ملاقات کریں گے۔

سابق تفتیشی افسر سے شواہد پر سوالات

شبیر لغاری نے بتایا کہ انہیں 28 جولائی کو کیس کی تفتیش سونپی گئی۔ ان کے مطابق انہوں نے میر رضا کے گھر جا کر کارروائی شروع کی۔

انہوں نے گلی میں سی سی ٹی وی فوٹیج بھی چیک کرنے کا بتایا۔ تاہم ان کے مطابق وہاں مطلوبہ فوٹیج دستیاب نہیں تھی۔

کمیشن نے روزنامچے میں اندراج نہ ہونے پر سوالات کیے۔ شبیر لغاری نے کہا کہ تفصیلات کیس ڈائری میں درج کی جاتی تھیں۔

کرائم سین پر بھی سوالات

شبیر لغاری کے مطابق وہ 30 جولائی کو جائے وقوعہ پر گئے تھے۔ ان کے ساتھ ایس آئی او ارشد جاوید بھی موجود تھے۔

کمیشن نے کرائم سین محفوظ نہ ہونے پر سوال اٹھایا۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ کرائم سین یونٹ اس وقت موجود نہیں تھا۔

کمیشن نے ایس ایچ او عدیل افضال کے کردار پر بھی سوالات کیے۔ اس دوران جائے وقوعہ اور پولیس کارروائی سے متعلق کئی نکات زیر بحث آئے۔

موبائل فون اور سی سی ٹی وی کا معاملہ

شبیر لغاری نے بتایا کہ میر رضا کا موبائل فون جائے وقوعہ سے کچھ فاصلے پر ملا تھا۔

کمیشن نے موبائل فون کی ریکوری کے میمو پر سوالات کیے۔ ریکوری میں نام اور ولدیت کے فرق پر بھی وضاحت طلب کی گئی۔

کمیشن نے سی سی ٹی وی فوٹیج سے متعلق بھی سوالات کیے۔ فوٹیج کے تسلسل اور موبائل فون سے متعلق ریکارڈ پر بھی بحث ہوئی۔

ایپل واچ سے متعلق سوالات

کمیشن نے میر رضا کی ایپل واچ کے بارے میں بھی تفصیلات طلب کیں۔

شبیر لغاری کے مطابق واچ 8 اگست کو سیل شدہ حالت میں ان کے حوالے کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اے ایس آئی فیصل رحیم نے واچ فراہم کی تھی۔

کمیشن نے پوچھا کہ واچ آٹھ دن تک کہاں رہی۔ اس حوالے سے تفتیشی افسر کے پاس کوئی تحریری دستاویز موجود نہیں تھی۔

کمیشن نے واچ اور موبائل فون کے فرانزک عمل سے متعلق بھی سوالات کیے۔ آئی کلاؤڈ لاگ اِن اور ممکنہ ڈیٹا سے متعلق نکات بھی زیر بحث آئے۔

نرسری اور سیکیورٹی گارڈ سے متعلق سوالات

کمیشن نے نرسری کے ملازمین سے تفتیش کے بارے میں سوالات کیے۔ رکشے اور جائے وقوعہ تک رسائی سے متعلق بھی پوچھا گیا۔

شبیر لغاری نے نرسری ملازمین کے بیانات کی بنیاد پر مختلف وضاحتیں پیش کیں۔ کمیشن نے ان بیانات کی مکمل جانچ نہ ہونے پر سوال اٹھایا۔

سیکیورٹی گارڈ کے اسلحے سے متعلق بھی سوالات کیے گئے۔ گارڈ کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات کی تصدیق پر بھی بات ہوئی۔

گیسٹ ہاؤس کی فوٹیج اور ڈی وی آر

کمیشن نے گیسٹ ہاؤس کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے متعلق سوالات کیے۔ ڈی وی آر قبضے میں لینے اور اس کے ریکارڈ پر بھی وضاحت طلب کی گئی۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ تھانے میں آئی ٹی کا فوکل پرسن تکنیکی امور دیکھتا ہے۔

کمیشن نے روزنامچے وصول کرلیے

کارروائی کے دوران تھانہ فیروز آباد اور گلستان جوہر کے سیل شدہ روزنامچے کمیشن کو فراہم کیے گئے۔

کمیشن نے ریکارڈ کی فراہمی اور اس میں موجود اندراجات پر بھی سوالات کیے۔ کارروائی کے دوران اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے بھی مختلف نکات اٹھائے۔

کمیشن نے مزید کارروائی 21 ستمبر تک ملتوی کردی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.