کراچی میں نئے صوبے بنانے کے معاملے پر سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس حوالے سے سعید غنی نے جو مؤقف اختیار کیا، وہی پیپلز پارٹی کا موقف ہے۔
سندھ کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ نئے صوبے بنانے کا طریقہ کار آئین میں واضح ہے۔ ان کے مطابق صوبائی اسمبلی قرارداد منظور کرے گی تو معاملہ آگے بڑھے گا، اس کے علاوہ کوئی اور آئینی طریقہ موجود نہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ اسمبلی نئے صوبے کے خلاف قرارداد منظور کرچکی ہے، جبکہ پنجاب اسمبلی صوبے کے حق میں قرارداد منظور کرچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نواز شریف نے بھی اپنی جماعت کے ارکان کو اس معاملے پر بیان دینے سے روک دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے اور سعید غنی نے جو بات کی، وہی پارٹی کا مؤقف ہے۔
ایم کیو ایم کے حوالے سے شرجیل میمن نے کہا کہ جماعت سیاسی طور پر ختم ہوچکی ہے اور نئے صوبوں سے متعلق اس کے نفرت انگیز بیانات عوام کی نبض جانچنے کی کوشش ہیں۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ ایسی سیاسی چالوں کا حصہ نہ بنیں۔
عمران خان کی صحت کے بارے میں بات کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ اگر وہ بیمار ہیں تو وہ ان کی صحتیابی کے لیے نیک نیتی سے دعا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن کسی کی بیماری کے معاملے میں شائستگی اور انسانیت کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ عدالت کے حکم کے بغیر بھی ہر شخص کو بنیادی طبی سہولیات ملنی چاہئیں اور طبی سہولیات کی فراہمی میں سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو اسپتال میں مناسب طبی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔ سیاسی اختلافات کے باوجود رہنماؤں کو ایک دوسرے سے شائستگی کے ساتھ ملاقات اور گفتگو کرنی چاہیے۔