ایچ آئی وی: وزیراعلیٰ سندھ کا کلثوم بائی والیکا اسپتال میں غفلت پر زیرو ٹالرنس، متاثرہ بچوں کے لیے 2 ارب روپے کا فنڈ قائم

ایچ آئی وی کیسز کے معاملے پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کلثوم بائی والیکا اسپتال میں غفلت کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحت کی سہولیات کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں وزیر محنت سعید غنی، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، سیکریٹری صحت طاہر سانگی، سیکریٹری محنت ساجد جمال ابڑو، کمشنر سیسی اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں کلثوم بائی والیکا اسپتال میں رپورٹ ہونے والے ایچ آئی وی کیسز اور جاری تحقیقات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسپتال میں اب تک 78 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو چکی ہے۔ پہلی بار 23 اکتوبر 2025 کو چھ کیسز سامنے آئے تھے، جس کے بعد محکمہ محنت و افرادی قوت نے تحقیقات کا حکم دیا۔ تحقیقاتی کمیٹی نے اسپتال، خصوصاً شعبۂ اطفال اور لیبارٹری کا معائنہ کیا اور اپنی رپورٹ میں انفیکشن کنٹرول، اسٹرلائزیشن، طبی طریقہ کار، ریکارڈ اور انوینٹری کے نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جہاں بھی غفلت یا بدانتظامی ثابت ہوئی، وہاں مکمل احتساب کیا جائے گا۔ انہوں نے متاثرہ بچوں کے علاج، ادویات، مشاورت اور طویل المدتی بحالی کو ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت دی۔

مراد علی شاہ نے ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کے علاج، فلاح اور بحالی کے لیے 2 ارب روپے کا اینڈومنٹ فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی زندگیاں انتہائی قیمتی ہیں اور انہیں بہترین طبی سہولیات بغیر کسی مالی بوجھ کے فراہم کی جائیں گی۔

وزیر محنت سعید غنی نے اجلاس کو بتایا کہ تحقیقات کے بعد سابق و موجودہ انتظامیہ، ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر عملے سمیت 37 افسران اور اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ انہیں شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور 14 روز میں جواب طلب کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دسمبر 2025 میں سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سمیت 10 افسران کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی شروع کی گئی تھی، جبکہ دوسری جامع تحقیقاتی کمیٹی نے 19 جون 2026 کو اپنی رپورٹ پیش کی، جس میں متعدد افسران اور اہلکاروں کو انتظامی، نگرانی اور آپریشنل غفلت کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کلثوم بائی والیکا اسپتال میں ایچ آئی وی متاثرہ بچوں کے لیے خصوصی اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی سینٹر اور آئسولیشن وارڈ قائم کر دیا گیا ہے، جبکہ تمام مریضوں کی معمول کی ایچ آئی وی اسکریننگ شروع کر دی گئی ہے۔ سندھ بھر کے سیسی اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول پروٹوکولز اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (SOPs) نافذ کر دیے گئے ہیں۔

بریفنگ کے مطابق 300 سے زائد ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل عملے کی ایچ آئی وی اسکریننگ مکمل کی جا چکی ہے، جس میں دو ملازمین میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔ پروفیسر ڈاکٹر فاطمہ میر متاثرہ بچوں کو خصوصی علاج اور طبی مشاورت فراہم کریں گی، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو بحالی کے مراکز سے بھی منسلک کیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ سیسی کے تمام اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول نظام کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، جراثیم کشی، طبی فضلہ تلف کرنے اور مریضوں کی حفاظت کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے تھرڈ پارٹی آڈٹ جلد مکمل کرنے، نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے اور ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی بلا تاخیر مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ صحت کے نظام میں مریضوں کی حفاظت کے معیار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہونا چاہیے اور صوبے کے تمام سیسی اسپتالوں میں علاج، انفیکشن سے بچاؤ اور مریضوں کے تحفظ کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!