سی ڈی اے سے متعلق اہم مقدمے میں وفاقی آئینی عدالت نے سی ڈی اے اور میٹرو پولیٹن سٹی کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے حکمِ امتناعی ختم کر دیا اور ٹرائل کورٹس کو مقدمات کا جلد از جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ملکیت سے متعلق تنازعات کا فیصلہ ٹرائل کورٹس آزادانہ طور پر کریں گی اور وہ عدالتی مشاہدات سے متاثر نہیں ہوں گی، جبکہ انتظامی نوعیت کے معاملات متعلقہ ریگولیٹری ادارے قانون کے مطابق طے کریں گے۔
سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کئی اہم نکات کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مقدمہ یا نظرثانی درخواست دائر کرنے پر بھی عدالت نے سخت ردعمل ظاہر کیا، جبکہ فیصلے میں ایسی باتیں بھی شامل کی گئیں جن کا مقدمے کے متن میں کوئی ذکر موجود نہیں تھا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے مزید کہا کہ عدالت جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانون اور حقائق کے مطابق فیصلہ کرے گی۔
دورانِ سماعت وکیل احسن بھون نے عدالت کے مطالعے اور کیس کے جائزے کو سراہا، جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ عدالت کی تعریف کرنے کی ضرورت نہیں، عدالت صرف سماعت کے دوران پیش کیے گئے مواد کی بنیاد پر فیصلہ دیتی ہے اور فیصلے میں غیر متعلقہ یا غیر ضروری باتیں شامل نہیں کی جاتیں۔
انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ سابقہ فیصلہ پڑھنے سے محسوس ہوا کہ اس میں عدالتی کارروائی سے باہر کی کئی باتیں بھی تحریر کی گئی تھیں۔