کراچی: مسئلہ کشمیر پر پاکستان سنی تحریک نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت ہر سطح پر جاری رکھی جائے گی، جبکہ بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی قرار دیا گیا۔
یہ بات پاکستان سنی تحریک کے چیئرمین انجینئر محمد ثروت اعجاز قادری نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی کی قیادت میں قادری ہاؤس آنے والے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں مرکزی کوآرڈینیٹر طیب حسین قادری، عمران قادری اور دیگر رہنما بھی شریک تھے، جبکہ وفد میں شیخ عبدالمتین، زاہد صفی، شیخ عبدالماجد اور سیکرٹری اطلاعات امتیاز وانی شامل تھے۔
ملاقات میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال، آزاد جموں و کشمیر کے حالات، مسئلہ کشمیر اور امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ پاکستان سنی تحریک اپنے قیام سے مسئلہ کشمیر کو پاکستان اور امت مسلمہ کا بنیادی قومی مسئلہ تصور کرتی آئی ہے اور اس مؤقف پر ہمیشہ قائم رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم ہر سال 5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں مناتی ہے تاکہ کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں حقِ خود ارادیت کے لیے جدوجہد کرنے والے کشمیری عوام نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، جنہیں پاکستان سنی تحریک خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیم مستقبل میں بھی کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت ہر فورم پر جاری رکھے گی۔
ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے، آبادی کا تناسب تبدیل کرنے اور غیر ریاستی افراد کو آباد کرنے کے اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کو متاثر کرنے کی کوشش ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خود ارادیت دلانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کسی شہری کے بنیادی، جمہوری یا آئینی حقوق متاثر ہو رہے ہیں تو ان معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور مسائل کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات، انصاف اور آئین کے مطابق تلاش کیا جانا چاہیے۔
ملاقات کے دوران فریقین نے برہان مظفر وانی کی برسی کے سلسلے میں 11 جولائی کو منعقد ہونے والے پروگرام کو کامیاب بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور اس مقصد کے لیے باہمی تعاون اور رابطوں کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔