پاکستان میں محرم الحرام 1448 ہجری کا چاند نظر نہیں آیا۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کے بعد چیئرمین عبدالخبیر آزاد نے اعلان کیا کہ ملک کے کسی حصے سے چاند نظر آنے کی معتبر شہادت موصول نہیں ہوئی۔
اس اعلان کے بعد محرم الحرام کی پہلی تاریخ 17 جون 2026 بروز بدھ ہوگی، جبکہ یوم عاشور 26 جون بروز جمعہ منایا جائے گا۔ اس فیصلے کا ملک بھر میں مذہبی اجتماعات اور محرم کے پروگراموں کے شیڈول پر براہ راست اثر پڑے گا۔
عبدالخبیر آزاد اور رویت ہلال کمیٹی کا اعلان
مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس لاہور میں چیئرمین عبدالخبیر آزاد کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف مکاتب فکر کے علما کرام اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد عبدالخبیر آزاد نے بتایا کہ ملک بھر سے موصول ہونے والی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔ تاہم کسی بھی مقام سے چاند نظر آنے کی مصدقہ شہادت نہیں ملی۔ لہٰذا یکم محرم 17 جون کو ہوگی۔
محرم الحرام اور یوم عاشور کی تاریخ
اعلان کے مطابق محرم الحرام 1448 ہجری کا آغاز بدھ 17 جون سے ہوگا۔ اسی طرح 10 محرم یعنی یوم عاشور 26 جون بروز جمعہ منایا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق اسلامی مہینوں کا آغاز چاند کی رویت سے مشروط ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے مختلف ممالک میں قمری مہینوں کی تاریخوں میں بعض اوقات ایک دن کا فرق سامنے آتا ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں چاند نظر آگیا
دوسری جانب Saudi Arabia اور United Arab Emirates میں محرم الحرام کا چاند نظر آنے کا اعلان کیا گیا۔
سعودی سپریم کورٹ اور اماراتی فتویٰ کونسل کے مطابق یکم محرم 16 جون بروز منگل ہوگی، جبکہ یوم عاشور 25 جون کو منایا جائے گا۔ اس طرح پاکستان اور ان ممالک میں محرم کی تاریخوں میں ایک دن کا فرق رہے گا۔
عبدالخبیر آزاد کا قومی قیادت سے متعلق بیان
اعلان کے موقع پر عبدالخبیر آزاد نے قومی قیادت کے کردار پر بھی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت کی سفارتی کوششوں کو سراہا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک دشمن عناصر کی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کے مطابق قومی یکجہتی اور استحکام کے لیے تمام ادارے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
محرم الحرام کی تیاریوں کا آغاز
محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی ملک بھر میں مجالس، جلوسوں اور دیگر مذہبی تقریبات کی تیاریاں شروع ہو جائیں گی۔ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔
مزید برآں مختلف شہروں میں ٹریفک پلان، سیکیورٹی اقدامات اور دیگر انتظامی امور سے متعلق اعلانات بھی متوقع ہیں تاکہ عزاداروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔