تہران: ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے جہازوں کے محفوظ گزر کی یقین دہانی کے لیے نیا نظام تیار کر رہا ہے، جس کا مقصد امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدہ صورتحال کے باوجود اس اسٹریٹجک پانی کے راستے کی حفاظت کو برقرار رکھنا ہے۔
گلبہار میں اے ٹی ایم توڑنے کی ناکام کوشش، ملزم گرفتار
ایران کے مطابق جنگ کے آغاز سے قبل اس آبی گزرگاہ سے روزانہ تقریباً 135 جہاز گزرتے تھے، لیکن جنگ کے بعد اس راستے کی آمد و رفت تقریباً رک گئی۔ یکم مارچ سے 25 مارچ کے درمیان صرف 116 جہاز اس راستے سے گزرنے میں کامیاب ہوئے، جن میں زیادہ تر جہاز چین، بھارت اور خلیجی ممالک کے تھے، جبکہ بعض ’ڈارک فلیٹ‘ کے جہاز بھی شامل تھے جن پر مغربی پابندیاں عائد ہیں۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق ایران نے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے کے بدلے ہر جہاز سے 20 لاکھ ڈالر فیس وصول کرنا شروع کی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے رکن علاالدین بروجردی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ہر جہاز کو اس اسٹریٹجک گزرگاہ سے گزرتے وقت یہ رقم ادا کرنا ضروری ہے۔
مارٹن کیلی، ایک رسک اینڈ کرائسس منیجمنٹ کمپنی کے مشیر، نے بتایا کہ جہازوں کی منظوری کا عمل حکومت سے حکومت کے مذاکرات کے ذریعے انجام پاتا ہے، جس کے بعد جہاز کو ایک کوڈ دیا جاتا ہے جو وہ آبنائے ہرمز کے قریب پہنچ کر بین الاقوامی ہنگامی ریڈیو فریکوئنسی VHF 16 پر نشر کرتا ہے۔ اس دوران ایرانی حکام جہاز کے کاغذات، کارگو کی منزل اور عملے کی قومیت کی جانچ کرتے ہیں۔
جہاز رانی کے ڈیٹا کے مطابق جنگ کے دوران گزرنے والے جہاز امریکا یا یورپ کے لیے کارگو نہیں لے جا رہے بلکہ زیادہ تر مشرقی ایشیا، کچھ مشرقی افریقا اور جنوبی امریکا کی طرف روانہ ہوئے۔ جہازوں نے روایتی شپنگ لینز کی بجائے ایرانی سمندری حدود استعمال کیں، اور بعض جہاز پاکستانی پرچم کے تحت گزرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ کشیدگی والے خطے میں محفوظ رہ سکیں۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق 20 لاکھ ڈالر کی ادائیگی ایران کے لیے ایک چیلنج ہے کیونکہ پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی اداروں پر مغربی پابندیاں عائد ہیں، تاہم ایران نے خفیہ ادائیگی کے نیٹ ورکس قائم کر رکھے ہیں۔ بھارتی اور چینی کمپنیوں نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ بھارت کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران محفوظ راستے کے بدلے کچھ طلب نہیں کر رہا۔
