National Assembly of Pakistan کے اجلاس میں متعدد ترمیمی بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیے گئے جبکہ International Women’s Day کی مناسبت سے ایک اہم قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ ایوان خواتین کی سماجی، معاشی اور قومی زندگی کے مختلف شعبوں میں خدمات کو سراہتا ہے اور ان کے حقوق کے تحفظ اور برابری کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
پی ایس ایل 11 کا شیڈول جاری، 26 مارچ سے 3 مئی تک 44 میچز
اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر Syed Ghulam Mustafa Shah نے کی۔ اجلاس کے دوران ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں کی سلامتی سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر پارلیمانی سیکریٹری Tariq Fazal Chaudhry نے ایوان کو آگاہ کیا کہ اب تک دو ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ کو ایران سے وطن واپس لایا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ سے مختلف ایرانی شہروں میں پاکستانی سفارتی عملہ ہائی الرٹ پر موجود ہے اور شہریوں و طلبہ سے رابطے میں کسی قسم کی دشواری پیش نہیں آئی۔ ان کے مطابق اب تک کسی نقصان کی کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی اور طلبہ کی اکثریت بحفاظت پاکستان پہنچ چکی ہے۔
اجلاس کے دوران جمعیت علمائے اسلام (ف) کی رکن Naeema Kishwer نے بلوں میں ترامیم پیش کرنے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج بھی کیا۔ بعد ازاں ایوان نے صوبائی موٹر وہیکلز ترمیمی بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ترامیم مسترد کر دی گئیں۔
اسی طرح اسلام آباد میں فلاحی اداروں کی رجسٹریشن سے متعلق سہولت کاری ترمیمی بل اور لازمی تھیلیسیمیا اسکریننگ بل بھی منظور کر لیے گئے۔ اس موقع پر Shazia Marri نے سول ملازمین ترمیمی بل پیش کیا جس پر Khawaja Izhar ul Hassan نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے قوانین نے سندھ میں پہلے ہی مسائل پیدا کیے ہیں۔
بعد ازاں Naveed Qamar نے خواجہ اظہار الحسن کو قائل کرنے کی کوشش کی تاہم اپوزیشن لیڈر Mahmood Khan Achakzai نے مداخلت کی جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے بل کو مزید غور کے لیے قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔
اجلاس میں نصابِ تعلیم اور درست کتب سے متعلق ترمیمی بل بھی کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا جبکہ آٹھ ماہ کے دوران ریونیو میں کمی سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کی درخواست پر مؤخر کر دیا گیا۔
اپنے خطاب میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان اس وقت مشکل حالات سے گزر رہا ہے اور موجودہ حکومت ایسے حالات میں ملک کو مؤثر انداز میں نہیں چلا سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی نے اب تک ایران کے خلاف جارحیت کے معاملے پر کوئی قرارداد منظور نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمنٹ کو اسی انداز میں چلایا گیا تو اپوزیشن ارکان ایوان میں بیٹھنے پر غور کریں گے۔
