کراچی: سندھ حکومت نے شہریوں کے مفادات کے تحفظ اور تعمیراتی شعبے میں شفافیت و نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے مقررہ مدت میں منصوبے مکمل نہ کرنے والے بلڈرز کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔ صوبائی وزیر بلدیات و ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ جو بلڈر مقررہ وقت پر منصوبہ مکمل نہ کر کے خریداروں کو مکانات یا فلیٹس حوالے کریں گے، ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ایسے بلڈرز کا لائسنس معطل کر کے انہیں ڈی لسٹ/بلیک لسٹ کیا جائے گا۔
نارتھ ناظم آباد پولیس مقابلے کے بعد گرفتار ملزمان نے 30 موٹر سائیکلیں چوری کرنے کا اعتراف کر لیا
صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) تمام ایسے منصوبوں کی تفصیلات فوری طور پر فراہم کرے جن کی تعمیر منظور شدہ مدت گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہوئی تاکہ ذمہ دار بلڈرز کے خلاف ضابطے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ حکومت کو شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ بعض بلڈرز غیر ضروری تاخیر کے ذریعے شہریوں کو مالی دباؤ اور مشکلات میں مبتلا کر رہے ہیں۔
انہوں نے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی صفوں میں موجود غیر ذمہ دار عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کرے اور قانون پر عملدرآمد میں تعاون کرے، تاکہ ذمہ دار ڈویلپرز کی حوصلہ افزائی اور غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کی حوصلہ شکنی ہو۔ صوبائی وزیر نے عوام کو بھی مشورہ دیا کہ کسی بھی تعمیراتی منصوبے میں سرمایہ کاری سے قبل اس کی قانونی حیثیت، منظوری اور دستاویزات کی تصدیق کریں اور مستند معلومات کے لیے ایس بی سی اے سے رجوع کریں، تاکہ غیر قانونی یا غیر مطابقت رکھنے والی تعمیرات کے خطرات سے بچا جا سکے۔
