بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون اور بچی کے شوہر غلام مرتضیٰ نے پولیس افسران پر تشدد اور بیوی کو قتل کرنے کا جھوٹا اعتراف کرانے کے لیے دباؤ ڈالنے کے سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی دو بڑی کارروائیاں، بھارتی پراکسی یافتہ 41 دہشتگرد ہلاک: آئی ایس پی آر
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے غلام مرتضیٰ نے بتایا کہ جب وہ اپنی بیوی اور بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کی اطلاع دینے تھانے گئے تو پولیس نے مدد فراہم کرنے کے بجائے انہیں ہی حراست میں لے لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس پی بلال اور ایس ایچ او زین نے ان پر تشدد کیا اور بار بار یہ کہنے پر مجبور کیا کہ وہ اپنی بیوی اور بچی کے قتل کا اعتراف کریں۔
غلام مرتضیٰ کے مطابق ان کی بیوی کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں ہوا تھا بلکہ وہ اہلِ خانہ کے ساتھ سیر کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے بیوی اور بچی کو سیوریج لائن میں گرتے دیکھا، مگر پولیس افسران نے ان کی بات پر یقین کرنے کے بجائے انہیں جھوٹا قرار دیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے ان کا موبائل فون بھی ضبط کر لیا اور ان کے کزن تنویر کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ غلام مرتضیٰ کے مطابق پولیس مسلسل دباؤ ڈالتی رہی کہ وہ دونوں کے قتل کا اعتراف کرے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ، داتا دربار کے قریب ایک خاتون اور اس کی بچی سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھیں۔ ابتدائی طور پر پولیس اور متعلقہ ادارے واقعے سے انکار کرتے رہے، تاہم تقریباً 10 گھنٹے بعد دونوں کی لاشیں تین کلومیٹر دور سے برآمد ہوئیں، جس کے بعد واقعے نے شدید عوامی ردعمل اور سوالات کو جنم دیا۔
