پاکستانیوں کے لیے یو اے ای پری امیگریشن کلیئرنس پر باضابطہ معاہدہ، سفری مشکلات میں بڑی کمی متوقع

اسلام آباد/کراچی: پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یو اے ای جانے والے پاکستانی شہریوں کے لیے پری امیگریشن کلیئرنس سے متعلق باضابطہ معاہدہ کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے، جس کے بعد پاکستانی مسافروں کو یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن مراحل سے گزرنا نہیں پڑے گا۔

سائٹ ایریا مقابلے میں شہید کانسٹیبل واجد خان کی نمازِ جنازہ ادا، پولیس افسران کی بھرپور شرکت

وزارت داخلہ کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد امیگریشن کی تمام ضروری کارروائی سفر سے قبل ہی پاکستان میں مکمل کر لی جائے گی، جس سے یو اے ای پہنچنے پر پاکستانی شہری ڈومیسٹک پروازوں کے مسافروں کی طرح براہ راست ایئرپورٹ سے باہر جا سکیں گے۔

یہ اہم فیصلہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور یو اے ای کے اعلیٰ سطحی وفد کے درمیان ملاقات میں کیا گیا، جس کی قیادت ڈائریکٹر جنرل کسٹمز اینڈ پورٹ سیکیورٹی احمد بن لہج الفلاسی کر رہے تھے۔ ملاقات میں دوطرفہ تعاون، امیگریشن نظام اور مسافروں کو سہولت فراہم کرنے سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ پری امیگریشن کلیئرنس نظام کو ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے طور پر متعارف کرایا جائے گا، جس کا پہلا مرحلہ کراچی سے شروع ہوگا، تاہم اس کے باضابطہ آغاز کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس نئے نظام سے پاکستانی شہریوں کے سفری تجربے میں نمایاں بہتری آئے گی اور امیگریشن کے مسائل کم ہوں گے۔

یو اے ای کے وفد نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ بیان کے مطابق متعلقہ ادارے پائلٹ منصوبے کے انتظامی اور تکنیکی پہلوؤں کو حتمی شکل دینے کے لیے قریبی رابطہ رکھیں گے۔ کراچی میں پائلٹ مرحلہ کامیابی سے مکمل ہونے کے بعد اس نظام کو دیگر شہروں تک بھی توسیع دی جائے گی۔

ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکریٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانی شہریوں کو یو اے ای کے ویزے کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

واضح رہے کہ نومبر 2025 میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سلمان چوہدری نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بتایا تھا کہ یو اے ای پاکستانی شہریوں کو ویزے جاری نہیں کر رہا، جبکہ سعودی عرب اور یو اے ای کی جانب سے پاکستانی پاسپورٹ پر پابندی عائد ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا۔

54 / 100 SEO Score

One thought on “پاکستانیوں کے لیے یو اے ای پری امیگریشن کلیئرنس پر باضابطہ معاہدہ، سفری مشکلات میں بڑی کمی متوقع

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!