پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق پنجاب فارنزک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
Friday, 16th January 2026
پشاور میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی سے ان کی چند ماہ قبل کوئی واقفیت نہیں تھی، تاہم وہ پی ٹی آئی کا اثاثہ ہیں اور انہیں کسی صورت راستے سے ہٹایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب تفتیش کا عمل مکمل ہو چکا تھا تو پھر معاملہ فارنزک لیب تک کیسے پہنچا، اور عدالت نے کس بنیاد پر اس رپورٹ کو قبول کیا۔
پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پنجاب فارنزک لیب کی رپورٹ اور تفتیشی عمل دونوں کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مذاکرات کا کوئی سازگار ماحول نظر نہیں آ رہا، اگر کسی نے اصولوں پر بات کرنی ہے تو شفاف انتخابات، عوامی مینڈیٹ کی واپسی اور آزاد عدلیہ جیسے نکات پر بات کی جائے۔
سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ مذاکرات کے لیے علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کو اختیار دیا گیا ہے، تاہم پی ٹی آئی کسی ذاتی سہولت یا خفیہ راستے کے ذریعے بات چیت پر یقین نہیں رکھتی۔ ان کے مطابق اب اصل مقدمہ عوام کے سامنے رکھا جائے گا۔
واضح رہے کہ پنجاب فارنزک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ میں 9 مئی کے واقعات کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کی مبینہ موجودگی کی تصدیق کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
