کراچی میں سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن اور ضلعی انتظامیہ نے شہر میں قانون شکن عناصر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن کرتے ہوئے گلبرگ میں واقع رحیم ہسپتال پر اچانک چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران ہسپتال کی طبی سہولیات اور انتظامات انتہائی ناقص پائے گئے، جس پر سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے باقاعدہ انکوائری کا آغاز کر دیا۔ اس کارروائی میں ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی نے مکمل تعاون فراہم کیا۔
ناظم آباد میں تجاوزات کے خلاف 8 گھنٹے طویل کارروائی غیر قانونی دیواریں اور فٹ پاتھیں مسمار
کمیشن کے مطابق رحیم ہسپتال کے خلاف طویل عرصے سے شکایات موصول ہو رہی تھیں، جن میں غیر معیاری علاج، قواعد کی خلاف ورزی اور انتظامی بدحالی شامل تھی۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے واضح کیا کہ صوبے بھر میں اسپتالوں کو لائسنس دینے، طبی معیار بہتر بنانے اور غیر مستند ڈاکٹروں کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی جاری ہے تاکہ عوام کو محفوظ اور معیاری علاج فراہم کیا جا سکے۔
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی طحہ سلیم کی ہدایت پر عائشہ منزل میں قائم غیر قانونی الیکٹرانک مارکیٹ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا۔ انتظامیہ کے مطابق تمام دکانیں اپنی مقررہ حدود سے تجاوز کر رہی تھیں اور سڑک تک سامان رکھنے کے باعث شہریوں کو شدید ٹریفک مسائل کا سامنا تھا۔
آپریشن کے دوران ایک ساتھ 25 دکانیں سیل کی گئیں اور سیل شدہ دکانوں کی فہرست جاری کر دی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائیاں بلا تفریق جاری رہیں گی، کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا اور شہر کو تجاوزات سے مکمل طور پر پاک کیا جائے گا۔

