جمعرات کی شب وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نجی ٹی وی کے پروگرام ’الیونتھ آور‘ میں ویڈیو لنک کے ذریعے براہِ راست شریک تھے۔ پروگرام کے دوران جب وہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات پر گفتگو کر رہے تھے تو اچانک نشریات میں خلل پیدا ہو گیا اور ایک نامعلوم شخص کی بلند اور جارحانہ آواز سنائی دی جس میں کہا گیا، ’’بند کرو اسے‘‘۔
تاجکستان میں افغان سرحد سے دراندازی 3 مسلح افراد ہلاک دو تاجک سرحدی اہلکار شہید
اس کے فوراً بعد احسن اقبال کی ویڈیو کال منقطع ہو گئی، جس پر پروگرام کے میزبان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اچانک رابطہ منقطع ہونا باعثِ تشویش ہے اور صورتحال واضح نہیں ہو پا رہی۔
کچھ دیر بعد احسن اقبال دوبارہ پروگرام میں شامل ہوئے اور بتایا کہ سب خیریت ہے۔ تاہم واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئیں اور بعض حلقوں نے اسے سیاسی نوعیت کا واقعہ قرار دینا شروع کر دیا۔
بعد ازاں وزیرِ منصوبہ بندی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ لائیو نشریات کے دوران قریبی جگہ پر چند افراد کے درمیان بحث ہو رہی تھی، انہیں علم نہیں تھا کہ پروگرام براہِ راست نشر ہو رہا ہے، جس کے باعث مختصر خلل پیش آیا۔
احسن اقبال نے کہا کہ وہ چند لمحوں بعد دوبارہ انٹرویو میں شامل ہو گئے تھے اور عوام سے اپیل کی کہ اس معاملے کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔
یہ وضاحت انہوں نے سینئر صحافی اجمل جامی کی ایک پوسٹ کے جواب میں دی۔ اجمل جامی کے مطابق انہوں نے ویڈیو کلپ دیکھنے کے بعد احسن اقبال سے بات کی، جنہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر خاندانی اجتماع تھا اور بچے اچانک ان کے اسٹڈی روم میں داخل ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے نشریات میں خلل آیا۔
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے احسن اقبال سے بات کی ہے، واقعہ گھریلو نوعیت کا تھا، سب خیریت ہے اور وزیر منصوبہ بندی دوبارہ پروگرام میں شامل ہو گئے تھے۔
