اسلام آباد: خسارے میں چلنے والی قومی ایئر لائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری کے لیے تین بولیاں موصول ہو گئی ہیں، جسے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سرکاری لین دین قرار دیا جا رہا ہے۔
جنید صفدر کی دوسری شادی کی تصدیق، شریف خاندان میں نئی رشتہ داری قائم
منگل کی صبح پہلے سے اہل قرار دیے گئے بولی دہندگان لکی سیمنٹ، نجی ایئر لائن ایئر بلیو اور سرمایہ کاری کمپنی عارف حبیب کی جانب سے سربمہر بولیاں نجکاری کمیشن کو جمع کرائی گئیں۔ بولی دہندگان کے نمائندے اسلام آباد میں منعقدہ عوامی تقریب میں شریک ہوئے جہاں شفاف باکس میں پیشکشیں جمع کرائی گئیں۔ یہ تقریب سرکاری ٹی وی پر براہِ راست نشر کی گئی۔
بولیاں موصول ہونے کے بعد اب پی آئی اے سی ایل کی نجکاری کے لیے ریفرنس پرائس کی منظوری نجکاری کمیشن بورڈ اور کابینہ کمیٹی برائے نجکاری دے گی۔ بولیاں سہ پہر 3 بج کر 30 منٹ پر بولی دہندگان کی موجودگی میں کھولی جائیں گی، جس کے بعد ریفرنس پرائس اور بولیوں کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نیلامی کے اختتام پر پریس کانفرنس بھی کریں گے۔ نجکاری کا پورا عمل براہِ راست نشریات کے ذریعے تمام ٹی وی چینلز اور حکومت کے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دکھایا جائے گا۔
محمد علی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس بار اچھی بولی اور مضبوط سرمایہ کاری سامنے آئے گی اور نجکاری کا عمل کامیابی سے مکمل ہو گا۔
یہ قومی ایئر لائن کی نجکاری کی دوسری کوشش ہے، کیونکہ گزشتہ سال ہونے والی نیلامی اس وقت ناکام ہو گئی تھی جب واحد بولی حکومتی ریفرنس پرائس سے کہیں کم رہی تھی، جس کے باعث عمل روک دیا گیا تھا۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نجکاری کمیشن اور سرکاری حکام کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل مکمل شفاف بنایا گیا ہے اور یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا لین دین ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ بولیاں سربمہر لفافوں میں وصول کی جا رہی ہیں، براہِ راست نشریات ہو رہی ہیں اور قیمت طے ہونے کے بعد شفاف انداز میں مقابلہ ہو گا، جس میں سب سے زیادہ بولی دینے والا کامیاب قرار پائے گا۔
اہم شرط:
نجکاری کے عمل میں شامل دو ناکام بولی دہندگان کو مستقبل میں پی آئی اے کے انتظام میں کسی بھی کردار سے باہر رکھا جائے گا۔ محمد علی کے مطابق ہارنے والے گروپس کامیاب بولی دہندہ کے ساتھ شراکت کے حق دار نہیں ہوں گے، البتہ نیلامی میں شامل نہ ہونے والے فریق بعد میں انتظامیہ کا حصہ بن سکتے ہیں۔
پس منظر:
بولی سے قبل ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ لکی سیمنٹ اور عارف حبیب گروپ کے درمیان ممکنہ اشتراک پر غور ہوا تھا، تاہم لکی سیمنٹ گروپ کی عدم رضامندی کے باعث یہ تجویز آگے نہ بڑھ سکی۔
لکی سیمنٹ کے سربراہ محمد علی ٹبہ نے نجکاری کے عمل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر رسمی تجویز تھی جسے انہوں نے قبول نہیں کیا۔
