لاہور کی ضلعی و سیشن عدالت نے ٹک ٹاکرز رجب بٹ اور ندیم مبارک کے خلاف جوئے کی ایپلیکیشنز کی پروموشن کے مقدمے میں عبوری ضمانت منظور کر لی۔
سڈنی: بونڈی بیچ پر حنوکہ تقریب میں فائرنگ، ملزم پر قتل اور دہشت گردی سمیت 59 الزامات عائد
ایڈیشنل سیشن جج منصور علی قریشی نے عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ دونوں ٹک ٹاکرز نے اپنی درخواستیں بیرسٹر میاں علی اشفاق کے توسط سے دائر کیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے متعدد ٹک ٹاکرز کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں، جن میں رجب بٹ اور ندیم مبارک بھی شامل ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے جوئے کی ایپلیکیشنز کو فروغ دیا۔
دورانِ سماعت رجب بٹ اور ندیم مبارک عدالت کے روبرو پیش ہوئے، جہاں ان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں ملزمان تحقیقات میں شامل ہونا چاہتے ہیں تاکہ اپنی بے گناہی ثابت کر سکیں۔
عدالت نے دونوں کو قبل از گرفتاری عبوری ضمانت دیتے ہوئے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ 6 جنوری تک ان کی گرفتاری عمل میں نہ لائی جائے۔ عدالت نے ملزمان کو آئندہ سماعت تک تحقیقات میں مکمل تعاون کرنے کا بھی حکم دیا۔
یہ پیش رفت چند روز قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے رجب بٹ اور ندیم مبارک کے اہلِ خانہ کی درخواست پر دی گئی 10 روزہ حفاظتی ضمانت کے بعد سامنے آئی، جس کے بعد دونوں نے لاہور سیشن کورٹ سے علیحدہ علیحدہ ضمانت کی درخواستیں دائر کی تھیں۔
کیسز کا پس منظر:
سرکاری ریکارڈ کے مطابق دونوں ٹک ٹاکرز کو مختلف ایف آئی آرز میں نامزد کیا گیا ہے، جو سائبر کرائم قوانین کے تحت درج ہیں۔ الزامات میں جوئے کی ایپلیکیشنز چلانا یا ان کی تشہیر، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا غلط استعمال اور آن لائن ہراسانی شامل ہے۔
ایف آئی اے کی جانب سے متعدد نوٹسز جاری کیے گئے تاہم ملزمان کی بیرونِ ملک موجودگی کے باعث تحقیقات میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔
رواں برس ستمبر میں این سی سی آئی اے نے رجب بٹ کو مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر جوئے کی ایپس کی تشہیر کے الزام میں مقدمے میں نامزد کیا، جبکہ ندیم مبارک کے خلاف بھی اسی نوعیت کا کیس درج کیا گیا۔
ستمبر میں ندیم مبارک کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب انہوں نے اپنی گاڑی پر مبینہ طور پر جعلی رجسٹریشن نمبر ’IK-804‘ لگا رکھا تھا۔ پولیس کے مطابق یہ نمبر سابق وزیر اعظم عمران خان کو بطور قیدی الاٹ کیا گیا تھا، جس پر ملزم تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔
اسی طرح رواں سال مارچ میں رجب بٹ کے خلاف اپنی پرفیوم برانڈ ’’295‘‘ کے اجرا پر مبینہ مذہبی انتشار پھیلانے کے الزام میں توہینِ مذہب اور سائبر کرائم قوانین کے تحت مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا، جسے بعد ازاں شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔
دسمبر 2024 میں رجب بٹ اس وقت بھی قانونی مشکلات میں گھر گئے تھے جب انہیں گھر میں شیر کا بچہ اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ جنوری 2025 میں انہوں نے عدالت میں تسلیم کیا تھا کہ بغیر اجازت جنگلی جانور رکھنا قانون کی خلاف ورزی ہے، جس پر عدالت نے ضمانت دیتے ہوئے انہیں ایک سال تک جانوروں کے حقوق سے متعلق آگاہی ویڈیوز بنانے کی ہدایت کی تھی۔
