عمران خان بشریٰ بی بی اور روحانی اثر دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں نئے انکشافات

بین الاقوامی جریدے دی اکانومسٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کی اپنی روحانی مشیر بشریٰ بی بی سے شادی نے نہ صرف ملک کو حیران کیا تھا بلکہ اب بھی ان کے سیاسی مستقبل—یعنی دوبارہ اقتدار یا مستقل قید—کے فیصلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
صدر نے مسلح افواج کے تینوں ترمیمی بلوں کی منظوری دے دی فوجی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں

رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم کی تیسری شادی نے ان کی ذاتی زندگی، سیاسی حکمتِ عملی اور حکمرانی کے انداز پر سنگین سوالات کھڑے کیے۔ سینئر صحافی اوون بینیٹ جونز نے لکھا کہ 2010 کی دہائی کے وسط میں عمران خان ایک ایسا مرحلہ گزار رہے تھے جہاں شہرت، سوشل لائف اور سیاست میں ناکامی نے انہیں شدید مایوسی کا شکار کر رکھا تھا، اور وہ سیاسی طور پر کوئی بڑا مقام حاصل کرنے کے خواہش مند تھے۔

’روحانی مشاورت‘ کا اثر؟
رپورٹ میں قریبی حلقوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی سرکاری فیصلوں اور اعلیٰ تقرریوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی تھیں، جس کے نتیجے میں عمران خان کے حکومتی فیصلوں پر ’روحانی مشاورت‘ کا غلبہ دکھائی دیتا تھا۔
مزید دعویٰ کیا گیا کہ حساس ادارے کے چند افراد مبینہ طور پر اہم معلومات ایک پیر کے ذریعے بشریٰ بی بی تک پہنچاتے تھے، جو انہی معلومات کو ’’روحانی بصیرت‘‘ کا رنگ دے کر عمران خان کے سامنے پیش کرتیں، اور جب پیش گوئیاں درست ثابت ہوتیں تو عمران خان کا اعتماد مزید بڑھ جاتا۔

خفیہ شادی اور اسٹیبلشمنٹ کا کردار؟
دی اکانومسٹ کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کی خفیہ شادی کے فوراً بعد حساس اداروں کی دلچسپی بڑھنے کے اشارے ملے۔ ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ اس وقت کے انٹیلی جنس سربراہ جنرل فیض حمید نے بے حد باریک طریقے سے اس تعلق کو استعمال کیا۔

بشریٰ تسکین کے انٹرویوز میں حیران کن دعوے
رپورٹ کی شریک مصنفہ بشریٰ تسکین نے جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ وہ اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ عمران خان کی پالیسی ناکامیوں کی اصل وجوہات انتظامی تھیں، نہ کہ اسٹیبلشمنٹ۔
ان کا کہنا تھا کہ:

’’روزمرہ حکومتی معاملات، تقرر و تبادلے، یہاں تک کہ ملاقاتیں بھی جادو اور علم کی بنیاد پر ہونے لگیں تھیں۔‘‘

’’اگر بشریٰ بی بی کے پاس واقعی روحانی طاقت ہوتی تو ان کا، عمران خان کا اور پی ٹی آئی کا یہ حال نہ ہوتا۔‘‘

’’پیر اور مرید کا تعلق حد سے زیادہ احتیاط کا متقاضی ہوتا ہے، لیکن یہاں پیر نے مرید سے شادی کرلی—ہم اسے قبول نہیں کرتے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ انہیں سب سے زیادہ حیران کن بات یہ لگی کہ 25 کروڑ آبادی رکھنے والا ایک جوہری ملک ’’جادو ٹونے‘‘ کی بنیاد پر چلایا جا رہا تھا۔

اسٹوری کا مجموعی تاثر
رپورٹ میں نکات یکجا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عمران خان کے سیاسی زوال، حکومتی ناکامی اور مبینہ روحانی اثر نے پاکستان کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے—جس میں ذاتی زندگی، اسٹیبلشمنٹ، سیاست اور عقیدے کی آمیزش سب شامل ہیں۔

66 / 100 SEO Score

One thought on “عمران خان بشریٰ بی بی اور روحانی اثر دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں نئے انکشافات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!