کراچی (اسٹاف رپورٹر)
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 کے پلاٹ 192-C پر جاری مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کی جانب سے مسلسل چشم پوشی نے ایک بار پھر شہر میں بڑھتی ہوئی کرپشن کو سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
اہلِ علاقہ کے مطابق مذکورہ 600 گز کے پلاٹ پر غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی بارہا کی گئی، مگر SBCA حکام کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہ لائی گئی۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق 9 اکتوبر 2025 کو غیر قانونی تعمیرات کے خلاف باضابطہ ڈیمولیشن آرڈر جاری ہوا، تاہم اس کے باوجود تعمیرات کو نہ روکا گیا اور نہ ہی مسمار کیا گیا۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کارروائی کو مبینہ طور پر 10 لاکھ روپے کی ریکوری کے بعد روک دیا گیا، جبکہ ڈیمولیشن اسٹاف اور ڈسٹرکٹ ایسٹ سمیت تمام متعلقہ افسران نے معاملے پر خاموشی اختیار کر لی۔
اہلِ محلہ نے جب یہ صورت حال وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے نوٹس میں لائی تو وزیراعلیٰ نے فوراً احکامات جاری کیے کہ غیر قانونی تعمیرات کو فوری طور پر گرایا جائے اور ملوث SBCA افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
تاہم ذرائع کے مطابق یہ حکم مؤثر انداز میں نافذ نہ ہو سکا۔
البتہ DG SBCA مزمل حسین نے صرف SBI افسر امتیاز شیخ کو معطل کر کے باقی نظام کو برقرار رکھا، جس پر شہری حلقوں کی جانب سے شدید تنقید سامنے آ رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ڈیمولیشن آرڈر کے مطابق کارروائی کی جاتی تو متعدد افسران کے خلاف ایکشن ناگزیر تھا، لیکن صرف ایک افسر کو ہٹا کر “معاملہ دبانے کی کوشش” کی گئی۔
مزید برآں، شاہمیر بھٹو کو ہٹا کر نئی تعیناتی کے بعد توقع تھی کہ غیر قانونی تعمیرات میں کمی آئے گی، لیکن شہر کے مختلف علاقوں میں تعمیرات کا سلسلہ مزید تیز ہو گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی کے ہر ضلع میں ہفتہ وار کروڑوں روپے کی مبینہ ریکوری معمول بن چکی ہے، جبکہ جمعہ کو “کلکشن ڈے” قرار دیا جاتا ہے۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ پلاٹ 192-C کے معاملے سمیت پورے شہر میں جاری غیر قانونی تعمیرات اور کرپشن کے خلاف بلامتیاز کارروائی کی جائے، تاکہ قانون کی بالادستی قائم ہو سکے۔
اہلِ علاقہ کا مؤقف:
“اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو غیر قانونی تعمیرات پورے کراچی کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گی۔”



