اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے افغانستان کی جانب سے جارحیت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان قیادت پاکستان مخالف دہشتگرد عناصر کے خاتمے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
پاک افغان سرحد پر شدید جھڑپیں، پاکستان نے افغان فورسز کی 19 پوسٹوں پر قبضہ کر لیا
صدر مملکت نے اپنے بیان میں کہا کہ فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہند خطے کے امن اور استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس کا بوجھ کسی ایک ملک پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ افغان حکومت اپنی سرزمین کو فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہند کے استعمال سے روکے گی۔
صدر زرداری نے واضح کیا کہ فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہند کے گٹھ جوڑ سے پاکستانی شہری اور سکیورٹی اہلکار نشانہ بن رہے ہیں، اور پاکستان اس خطرناک سازش کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین سے فتنۃ الخوارج کے حملے اقوامِ متحدہ کی رپورٹوں سے بھی ثابت ہو چکے ہیں۔
صدرِ پاکستان نے کہا کہ پاکستان نے چار دہائیوں تک افغان عوام کی میزبانی کرکے اسلامی اخوت اور اچھی ہمسائیگی کی بے مثال مثال قائم کی۔ امن کی بحالی اور افغان شہریوں کی باعزت واپسی دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ پاکستان اپنی قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خیر خواہ ہے، اور برادرانہ تعلقات باہمی احترام، سکیورٹی تعاون اور خطے کے امن سے منسلک ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف مشترکہ اور عملی اقدامات ہی دیرپا امن کی ضمانت ہیں۔
صدر مملکت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات، علاقائی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ مقبوضہ کشمیر پر کسی بھی متنازع یا گمراہ کن مؤقف کو پاکستان کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر پر بھارتی غیر قانونی دعویٰ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہے۔ افغان قیادت نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہدِ آزادی سے منہ موڑ کر تاریخ اور امتِ مسلمہ کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔
