پشاور (اسٹاف رپورٹر) — پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا خیبر پختونخوا میں ہونے والا حالیہ جلسہ، جسے ایک بڑے سیاسی مظاہرے کے طور پر پیش کیا گیا تھا، بری طرح ناکام ثابت ہوا۔
Pakistan vs India Cricket Final Dubai – Emotions, Rivalry & Cricket Fever
جلسہ گاہ مٹی اور کچرے سے بھرا ہوا تھا جبکہ ناقص انتظامات اور سہولتوں کی کمی نے عوام کو بددل کردیا۔ جلسے کے دوران اچانک بجلی غائب ہوگئی، جس کی وجہ مبینہ طور پر جنریٹر آپریٹر کو ادائیگی نہ ہونا بتائی گئی۔ ذرائع کے مطابق جلسے کے فنڈز میں بدعنوانی کے شکوک بھی سامنے آئے ہیں۔
عوامی شرکت توقعات سے نہایت کم رہی اور بڑی تعداد میں کرسیاں خالی رہیں۔ سنسان ماحول کے باعث منتظمین بھی پریشان دکھائی دیے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور جلسہ ادھورا چھوڑ کر واپس چلے گئے جبکہ ان کے گارڈز کو ہنگامہ آرائی کے دوران لاٹھی چارج بھی کرنا پڑا۔
ذرائع کے مطابق بعدازاں نتھیا گلی میں پارٹی قیادت کے درمیان عشائیے پر تلخ کلامی ہوئی۔ الزامات کے تبادلے میں شدت آنے پر علی امین گنڈا پور نے غصے میں کہا: "آئندہ جلسے خود منعقد کریں۔” یہ صورتِ حال پارٹی کی اندرونی تقسیم اور انتشار کو بے نقاب کرتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس ناکام جلسے پر 100 کروڑ روپے سے زائد عوامی وسائل خرچ کیے گئے۔ سرکاری گاڑیاں، عملہ اور مشینری سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہوئی، جبکہ عوام تعلیم، صحت اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولتوں سے اب بھی محروم ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ جلسہ پی ٹی آئی کی سیاست کے زوال اور عوامی اعتماد میں کمی کا واضح ثبوت ہے۔ تبدیلی اور انصاف کے نعرے لگانے والی جماعت اب نمائشی سرگرمیوں اور اندرونی اختلافات میں الجھ چکی ہے۔
