کراچی (اسٹاف رپورٹر) ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی طحہ سلیم کی زیر صدارت غیر قانونی تعمیرات اور متعلقہ مسائل پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں میونسپل کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، کے الیکٹرک، سوئی سدرن گیس کمپنی کے اعلیٰ افسران، ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر محمد ضیا اور ڈائریکٹر ڈیمالیشن عبدالسجاد خان نے بھی شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلع وسطی میں غیر قانونی تعمیرات کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی پورشن کی سب لیز جاری نہ ہونے دی جائے اور اگر کسی رجسٹرار نے سب لیز جاری کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اضافی فلورز اور ملٹی یونٹس کسی قیمت پر منظور نہیں ہوں گے۔
ڈپٹی کمشنر نے کے الیکٹرک اور سوئی گیس حکام کو ہدایت کی کہ ہر فلور پر صرف ایک ہی میٹر دیا جائے جبکہ کمپلیٹیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر کسی بھی عمارت یا یونٹ کو قانونی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ایس بی سی اے کے کاغذات اور کمپلیٹیشن سرٹیفکیٹ صرف باضابطہ ویری فکیشن کے بعد ہی تسلیم کیے جائیں گے۔
انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ غیر رجسٹرڈ این جی اوز عوام کو بلیک میل کر رہی ہیں، جن کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پورشن مافیا کے خلاف جاری آپریشن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور اس مافیا کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام ادارے باہمی تعاون سے غیر قانونی تعمیرات کے خاتمے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائیں گے۔

