کراچی : وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے زراعت، خوراک اور خزانہ محکموں کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت کے مطابق فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
رکاوٹوں کا خاتمہ: اسٹیوٹا اور سندھ جیل خانہ جات قیدیوں کو ہنر مند بنانے کے لیے یکجا
اجلاس کو بتایا گیا کہ سال 2023-24 میں سندھ میں گندم کی پیداوار 4.592 ملین میٹرک ٹن تھی، تاہم اس سال امدادی قیمت نہ ہونے کے باعث پیداوار کم ہو کر 3.542 ملین میٹرک ٹن رہ گئی۔ صوبے میں اس سال کل 35 لاکھ 42 ہزار 510 ٹن گندم حاصل ہوئی جس کی اوسط پیداوار فی ایکڑ 28.70 من رہی۔
وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ اگر کاشتکاروں کو سہولت اور مراعات نہ دی گئیں تو صوبہ خوراک کے بحران سے دوچار ہوسکتا ہے اور گندم درآمد کرنے کی نوبت آسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو مراعات دے کر گندم کی کاشت بڑھانا ناگزیر ہے۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ سندھ کے پاس اس وقت 12 لاکھ 65 ہزار 380 میٹرک ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے جبکہ پاکستان کے مجموعی ذخائر 47 لاکھ ایک ہزار 682 میٹرک ٹن ہیں۔ سندھ اور بلوچستان کو اپنی گھریلو ضرورت پوری کرنے کے لیے ماہانہ تقریباً چار لاکھ ٹن گندم درکار ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ مارچ میں نئی فصل آنے تک سندھ کے پاس صوبائی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ذخائر موجود ہیں، تاہم فوڈ سیکیورٹی کے پائیدار حل کے لیے کسانوں کی مدد ضروری ہے۔ انہوں نے چیف سیکریٹری کو ہدایت دی کہ زراعت، خوراک اور خزانہ محکموں کے آئندہ اجلاس میں کاشتکاروں کے لیے ایک جامع مراعاتی منصوبہ پیش کیا جائے۔
مراد علی شاہ نے کہا، "یہ وقت کسانوں کا ساتھ دینے کا ہے، گندم کی کاشت میں اضافہ ہی عوام کے لیے خوراک کی فراہمی کی ضمانت ہے۔”
