کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ مری کی طرز پر سندھ کے واحد تفریحی مقام گورک ہل اسٹیشن پر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہوسکا۔ ریزورٹ، روڈ اور دیگر ترقیاتی اسکیموں سمیت فرنیچر و دیگر اشیاء کی خریداری میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا۔
قائداعظم کی 77ویں برسی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی مزارِ قائد پر حاضری، پھولوں کی چادر چڑھائی
چیئرمین نثار کھوڑو کی زیر صدارت اجلاس میں بتایا گیا کہ محکمہ ثقافت اینڈ ٹوارزم اور گورک ہل اتھارٹی حکام سال 2023-2024 کا آڈٹ ریکارڈ فراہم نہ کرسکے، جس پر متعلقہ افسران کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے معطل کرنے کا حکم دے دیا گیا۔
ڈی جی آڈٹ نے انکشاف کیا کہ ریزورٹ کی اسکیموں کے لیے 3 ارب روپے جاری کیے گئے جن میں سے 177 ملین روپے کا ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ ریسٹ ہاؤسز کے لیے 2 کروڑ 44 لاکھ روپے کے صوفہ سیٹ، بیڈ، کرسیاں اور دیگر فرنیچر کی خریداری کا ریکارڈ بھی غائب ہے۔
مزید بتایا گیا کہ گورک ہل کے لیے ایئر کنڈیشنز اور ایل ای ڈی ٹی وی مارکیٹ ریٹ سے کئی گنا زائد قیمت پر خریدے گئے۔ اسٹینڈ اے سی جس کی مارکیٹ قیمت 3 لاکھ 30 ہزار روپے تھی، وہ 10 لاکھ 50 ہزار میں جبکہ اسپلٹ اے سی 2 لاکھ کے بجائے 4 لاکھ 50 ہزار میں خریدی گئی۔ پی اے سی نے معاملے کی تحقیقات اینٹی کرپشن کو بھیجنے کا حکم دیا۔
اجلاس میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ریزورٹ اسکیم کے لیے 2 ارب 89 کروڑ روپے خرچ کیے گئے اور ٹھیکیداروں کو 94 فیصد رقم جاری کردی گئی، لیکن ریزورٹ کا کام مکمل نہ ہوسکا۔ پی اے سی نے اسے شدید بے ضابطگی قرار دیتے ہوئے مزید تحقیقات کی ہدایت دی۔
چیئرمین نثار کھوڑو نے کہا کہ گورک ہل اسٹیشن سندھ کا اہم تفریحی مقام ہے مگر یہ منصوبہ بھی آر بی او ڈی کی طرح بدنامی کا باعث بن چکا ہے۔ سیکریٹری کلچر نے موقف اختیار کیا کہ گورک ہل کا روڈ انجنیئرنگ فالٹ اور بلوچستان کے پہاڑوں سے آنے والے پانی کی وجہ سے خراب ہوتا ہے۔
