کراچی: انسپکٹر جنرل پولیس سندھ غلام نبی میمن نے شہید بینظیر بھٹو ایلیٹ پولیس ٹریننگ سینٹر رزاق آباد میں پولیس ایگلیٹ اور کمانڈو کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں شرکت کی۔ اس موقع پر کمانڈنٹ رزاق آباد اور دیگر سینیئر افسران نے آئی جی سندھ کا استقبال کیا جبکہ خصوصی پولیس دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔
تقریب کے دوران آئی جی سندھ نے ٹریننگ سینٹر میں مرمت و تعمیر کے بعد مکمل ہونے والے ٹرینی رہائشی بلاک اور بیرک تک جانے والی سڑک کا افتتاح بھی کیا۔ کمانڈو کورس کے 181 جبکہ ایگلیٹ کورس کے 481 ریکروٹس پاس آؤٹ ہوئے جن میں خواتین اہلکار بھی شامل ہیں۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ پولیس ٹریننگ انسٹیٹیوشنز کی بہتری اولین ترجیح ہے۔ معیاری انسٹرکٹرز اور جدید تربیتی نصاب سے ہی مربوط اور مؤثر ٹریننگ ممکن ہے۔ انھوں نے کہا کہ پولیس ایک سروس ہے، جسے معاشرتی ضروریات کے مطابق تیار کیا جانا ضروری ہے۔ اسی لیے تربیتی ماڈیولز میں مسلسل اپڈیٹس وقت کی ضرورت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی مہربانی سے پولیس میں بھرتیوں کی اجازت ملی ہے، اور یہ نوجوان ریکروٹس باصلاحیت اور تعلیم یافتہ ہیں، جنہیں تربیت دے کر حیرت انگیز نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
آئی جی سندھ نے زور دیا کہ ریکروٹس کو بہترین کمانڈو کورس کی تربیت بھی فراہم کی جائے تاکہ وہ ہر محاذ پر پیشہ وارانہ کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک بین الاقوامی جرم ہے، اور پولیس کو بطور اولین دفاعی لائن اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ سی ٹی ڈی کو جدید سہولیات اور مضبوط ڈھانچہ فراہم کیا جا رہا ہے اور ان کی تربیت کی ذمہ داری بھی رزاق آباد سینٹر پر ہے۔ آئی جی سندھ نے ہدایت کی کہ سی ٹی ڈی کے لیے شارٹ کورسز کی تربیت کا بھی انتظام کیا جائے۔ انہوں نے اسنائپرز کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے بہترین جوانوں کا انتخاب کیا جائے اور انہیں جدید ہتھیاروں سے لیس کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اسنائپرز کو بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں اور ان کی مہارت کو پیشہ وارانہ سطح پر شامل کیا جائے۔ سی ٹی ڈی، ایس ایس یو، اور آر آر ایف کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنا ہوگا تاکہ آپریشنل مہارت کو بہتر بنایا جا سکے۔
مزید کہا کہ ٹریننگ کو ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ ہر ٹرینی کے لیے کمپیوٹر کورس لازمی قرار دیا گیا ہے۔ کراؤڈ مینجمنٹ یونٹ (CMU) کی تشکیل اور جدید اینٹی رائٹس آلات کی فراہمی سے پولیس کی کارکردگی میں بہتری اور شہادتوں میں کمی آئی ہے۔
آئی جی سندھ نے اختتام پر نمایاں کارکردگی کے حامل پولیس اہلکاروں اور کمانڈوز میں انعامات اور تعریفی اسناد تقسیم کیں۔

