کرنسی مارکیٹ میں مہنگا ہوتا ڈالر بالآخر نیچے آنا شروع ہو گیا ہے، اور گزشتہ دو روز کے دوران ڈالر کے نرخوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت 284 روپے 97 پیسے سے کم ہو کر 284 روپے 25 پیسے پر آ گئی ہے، یعنی دو روز میں 72 پیسے کی کمی ہوئی۔ اسی طرح اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت 288 روپے 30 پیسے سے کم ہو کر 287 روپے 30 پیسے ہو گئی، یوں اوپن مارکیٹ میں دو دن کے دوران مجموعی طور پر 1 روپے 30 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان نے سماء ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ حوالہ ہنڈی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے مثبت اثرات آنا شروع ہو گئے ہیں، اور اس کے باعث مارکیٹ میں ڈالر کی طلب میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
ملک بوستان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی انٹربینک مارکیٹ سے ڈالر کی خریداری روک دی ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں ڈالر کی سپلائی بہتر ہو رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ڈالر خریدنے کے بجائے فروخت کریں، کیونکہ آئندہ دنوں میں ڈالر مزید سستا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مارکیٹ میں کسی قسم کی ڈالر قلت نہیں ہے اور جس کسی کو ڈالر درکار ہیں وہ ایکسچینج کمپنیز سے باآسانی حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے 22 جولائی کو اسلام آباد میں ڈالر سے متعلق ایک اہم شخصیت سے ملاقات کی، جس کے بعد سے صورتحال میں بہتری آ رہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں بھی مثبت رجحان دیکھا گیا ہے، اور کاروباری ہفتے کے چوتھے روز ہنڈریڈ انڈیکس ایک لاکھ 39 ہزار 800 سے زائد پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کی علامت ہے۔
