تہران/دوحہ (نمائندہ خصوصی) — ایران نے قطر اور عراق میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کیے ہیں، جنہیں "بشارتِ فتح” آپریشن کا نام دیا گیا ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں یکے بعد دیگرے زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ فضائی ٹریفک کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
ایس ایس پی سینٹرل ذیشان شفیق صدیقی کا امام بارگاہوں کا دورہ، محرم الحرام سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ
رائٹرز نے ایکسئیوس کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایک اسرائیلی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ ایران نے قطر میں امریکی اڈوں کی جانب چھ میزائل داغے۔ اس سے قبل ایران کی جانب سے ان حملوں کی تیاریوں کی رپورٹس بھی سامنے آئی تھیں۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز اور تسنیم کے مطابق ایران نے قطر اور عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا اور اس کارروائی کو "یا ابا عبداللہ” کوڈ کے تحت انجام دیا گیا۔ ایرانی افواج کا کہنا ہے کہ قطر میں العدید فوجی اڈے کو تباہ کن اور طاقتور میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
برطانوی روزنامہ ٹیلی گراف کے مطابق مغربی انٹیلی جنس پہلے ہی العدید بیس کو "قابلِ یقین خطرے” سے دوچار قرار دے چکی تھی۔ یہ بیس امریکی سینٹکام کا صدر دفتر ہے اور برطانوی فوجی بھی یہاں خدمات انجام دیتے ہیں۔
ایرانی حملوں کے بعد بحرین میں سائرن بجنے کی اطلاعات ہیں اور عراق میں امریکی اہلکاروں نے پناہ گاہوں کا رخ کیا۔ مہر نیوز کے مطابق ایرانی میزائلوں کی تعداد وہی رکھی گئی جو امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں میں بموں کی صورت میں استعمال کی تھی۔
دوسری جانب قطر نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملک کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ دوحہ اس حملے کا براہ راست جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ قطر کی وزارت خارجہ نے فضائی حدود کی بندش کو حفاظتی اقدام قرار دیا اور کہا کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
ایران کے حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات نے بھی اپنی فضائی حدود بند کر دی ہے اور خطے میں فضائی ٹریفک متاثر ہوئی ہے۔ مغربی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
