کراچی میں 33 لاکھ پراپرٹیز، صرف 9.5 لاکھ رجسٹرڈ — وزیر بلدیات سعید غنی کی کلک اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو اہم ہدایات

کراچی (اسٹاف رپورٹر): وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی میں پراپرٹی سروے کے عمل کو مزید مؤثر اور جامع بنانے کے لیے کلک (KLIC) کو چاہیے کہ وہ اپنی فزیبیلیٹی رپورٹ میں یونین کونسلز کو بھی آن بورڈ لے، تاکہ مقامی سطح کے نمائندے اس عمل میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

لیاری کی 19 سالہ باکسر عالیہ سومرو کا عالمی مقابلوں کے لیے عزم — 3 مئی کو تھائی لینڈ میں گیانوچ سے مقابلہ، پھر دبئی میں انڈیا سے ٹاکرا

انہوں نے کلک کے مرکزی دفتر میں ہونے والے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں اس وقت صرف 9 لاکھ 54 ہزار پراپرٹیز رجسٹرڈ ہیں، جب کہ کے الیکٹرک، پولیو اور دیگر ذرائع سے حاصل شدہ ڈیٹا کے مطابق کراچی میں 33 لاکھ سے زائد رہائشی و کمرشل پراپرٹیز موجود ہیں۔

کلک کی پروجیکٹ ڈائریکٹر عائشہ حمید نے بتایا کہ یہ پراپرٹی سروے ورلڈ بینک کے تعاون سے کیا جا رہا ہے، جس میں ایسی پراپرٹیز بھی سامنے آئی ہیں جو ٹیکس نیٹ میں نہیں آتیں۔ موجودہ رجسٹرڈ پراپرٹیز میں سے 5 لاکھ 44 ہزار ٹیکس ادا کرتی ہیں، جب کہ 4 لاکھ 32 ہزار ٹیکس سے مستثنٰی ہیں۔

سعید غنی نے زور دیا کہ سروے کے دوران عوامی رسائی کو بہتر بنانے اور زبان کو سادہ رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کو اعتماد حاصل ہو اور وہ اس عمل میں بھرپور حصہ لیں۔

اسی دن، صوبائی وزیر نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے اجلاس کی صدارت بھی کی۔ اجلاس میں ایم ڈی بورڈ طارق نظامانی اور دیگر افسران شریک تھے۔ سعید غنی نے تمام اضلاع اور ٹاؤنز میں صفائی ستھرائی کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ لی اور عیدالاضحیٰ سے قبل قربانی کی آلائشوں کی بروقت صفائی کے لیے مربوط پالیسی تیار کرنے کی ہدایات دیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ افسران کی مشاورت سے ایک مضبوط اور مؤثر پروگرام تیار کیا جائے تاکہ شہریوں کو عید کے دنوں میں صفائی سے متعلق کسی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!