پولیس کے مطابق 25 مارچ کو موٹروے کے قریب سندل بار میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں تین مسلح ڈاکوؤں نے ایک شادی شدہ جوڑے کو روکا اور لوٹ مار کی۔ دورانِ واردات، ملزمان نے شوہر کو درخت سے باندھ کر خاتون کو کھیتوں میں لے جا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
میانمار میں 7.7 شدت کا زلزلہ، جھٹکے کئی ممالک میں محسوس کیے گئے
واقعے کے بعد متاثرہ خاتون کے شوہر کی مدعیت میں تھانہ سندل بار میں زیادتی اور ڈکیتی کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم علی شیر کو گرفتار کر لیا، جبکہ اس کے دو ساتھیوں کی تلاش جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پولیس کی کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے ہدایت دی کہ دیگر ملزمان کو بھی جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواتین کے خلاف جرائم کسی صورت قابل قبول نہیں اور ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
متعلقہ پسِ منظر:
یہ واقعہ ستمبر 2020 میں لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر پیش آنے والے ایک اور اجتماعی زیادتی کے واقعے کی یاد دلاتا ہے، جس میں ایک خاتون کو ان کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کیس میں ملزمان کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔
