سپریم کورٹ میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے خصوصی وفد سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے ملاقات کی تفصیلات فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف وفد سے ملاقات میں عدلیہ کی آزادی، نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی اور معاہدوں کی پاسداری پر تبادلہ خیال ہوا۔
بھارتی میڈیا کی خود ساختہ رپورٹ: نسیم شاہ کا بیان توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش
چیف جسٹس نے بتایا کہ انہوں نے وفد کو واضح کیا کہ عدلیہ آئین کے تحت آزادی کا حلف اٹھا چکی ہے اور ہمارا کام نہیں کہ آئی ایم ایف کو تمام تفصیلات فراہم کریں۔ ملاقات کے دوران نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے ایجنڈے پر بھی بات ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماتحت عدلیہ کی نگرانی ہائیکورٹس کرتی ہیں اور آئی ایم ایف کے وفد نے معاہدوں کی پاسداری اور پراپرٹی حقوق کے حوالے سے سوالات کیے۔ چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ان معاملات پر اصلاحات کی جا رہی ہیں تاکہ نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
