گزشتہ ماہ عدالت نے معروف شخصیت رجب بٹ کو حکم دیا تھا کہ وہ ہر ماہ کے پہلے ہفتے میں جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق آگاہی ویڈیوز بنائیں اور انہیں اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کریں۔ اس فیصلے کے تحت انہیں ایک سال تک ایسی ویڈیوز اپلوڈ کرنا تھیں تاکہ عوام میں جنگلی حیات کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔
عمران خان کا آرمی چیف کو دوسرا کھلا خط: عوام اور فوج کے درمیان خلیج پر تشویش کا اظہار
عدالتی فیصلے کے مطابق رجب بٹ کو فروری کے پہلے ہفتے میں اپنی پہلی آگاہی ویڈیو اپلوڈ کرنی تھی، لیکن ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود نہ تو کوئی ویڈیو شیئر کی گئی اور نہ ہی وائلڈلائف کے فراہم کردہ مواد کو استعمال کیا گیا۔
پنجاب وائلڈلائف لاہور ریجن کے ڈپٹی ڈائریکٹر میاں عاصم کامران نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ رجب بٹ نے عدالتی حکم کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم عدالت کو اس بارے میں آگاہ کریں گے اور رجب بٹ کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست کریں گے۔”
رجب بٹ نے اپنی شادی کے موقع پر تحفے میں ملنے والے شیر کے بچے کو غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں رکھا تھا، جس پر پنجاب وائلڈلائف نے ان کے خلاف کارروائی کی تھی۔
عدالت نے انہیں سزا کے طور پر تین آپشنز دیے تھے: قید، بھاری جرمانہ، یا جنگلی حیات کے تحفظ کے حوالے سے آگاہی ویڈیوز بنانے کی ذمہ داری۔ رجب بٹ نے تیسری آپشن کو قبول کرتے ہوئے عدالت سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی سوشل میڈیا مقبولیت کو استعمال کرتے ہوئے جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے شعور بیدار کریں گے۔
اس کے بعد رجب بٹ نے ڈائریکٹر جنرل وائلڈلائف مدثر ریاض سے ملاقات کی اور اپنی ذمہ داریوں کو تسلیم کیا۔ وائلڈلائف حکام نے انہیں آگاہی ویڈیوز بنانے کے لیے ضروری مواد بھی فراہم کیا تھا تاکہ وہ اس مہم کو کامیابی سے مکمل کر سکیں۔
تاہم، پہلی ویڈیو بروقت اپلوڈ نہ کیے جانے پر وائلڈلائف حکام نے سخت نوٹس لیا ہے۔ میاں عاصم کامران نے کہا، "ہم عدالت سے رجوع کریں گے اور رجب بٹ کے خلاف مزید کارروائی کی درخواست کریں گے تاکہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر قانونی اقدامات اٹھائے جا سکیں۔”
یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عدالتی احکامات کو نظر انداز کرنا سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ وائلڈلائف حکام اس معاملے کو مثال بنانا چاہتے ہیں تاکہ جنگلی حیات کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو مستقبل میں سبق حاصل ہو۔
