سعودی عرب کا مؤقف: فلسطینی ریاست کے بغیر اسرائیل سے تعلقات ممکن نہیں

سعودی عرب نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کیے جائیں گے۔ سعودی وزارت خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے ردعمل میں کہا کہ فلسطین کے حوالے سے مملکت کا موقف غیر متزلزل اور دوٹوک ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا اظہار تعزیت

وزارت خارجہ نے تصدیق کی کہ ولی عہد محمد بن سلمان اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز کئی مواقع پر اس بات کو واضح کرچکے ہیں کہ مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بناتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کا قیام مسئلے کا واحد حل ہے۔ اس کے بغیر اسرائیل سے کسی بھی قسم کے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

سعودی عرب نے امریکی صدر کے فلسطینیوں کی بے دخلی کے منصوبے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ مملکت فلسطینی عوام کے حقوق اور آزاد ریاست کے قیام کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں غزہ پر قبضے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کو اردن اور مصر میں آباد کیا جائے گا۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ضروری ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ "ابراہم معاہدے” میں مزید ممالک شامل ہوں گے، اور سعودی عرب سمیت خطے کے مختلف ممالک سے تعلقات مضبوط کرنے کے لیے جلد دورے کیے جائیں گے۔

سعودی عرب نے امریکی منصوبے کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام تک کسی بھی قسم کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر بات چیت ممکن نہیں۔

61 / 100 SEO Score

2 thoughts on “سعودی عرب کا مؤقف: فلسطینی ریاست کے بغیر اسرائیل سے تعلقات ممکن نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!