تشکُّر نیوز رپورٹنگ،
جنرل عاصم منیر نے جب پاک فوج کی کمان سنبھالی تو ہر محاذ پر صورتحال ناموافق تھی ، انھوں نے چیلنج قبول کئے
چمن سے خیبر تک اور خیبر سے لائن آف کنٹرول تک ، اندورنی اور بیرونی دشمنوں کو ہر محاذ پر منہ کی کھانی پڑی
سپہ سالار سیاسی قیادت کو اعتماد میں لائے اور ان کے ساتھ مل کر ملک کےلئے مربوط اور جامع روڈ میپ مرتب کیا
سعودی عرب، متحدہ عرب ا مارات ، چین اورقطر کے ساتھ تعلقات کو ازسرنو بحال کرنے میں کامیاب ہوئے
سعودی عرب، قطر، یواے ای نے سپہ سالار کو بھاری سرمایہ کاری کی یقین دہانیاں کرائیں، زرمبادلہ کے ذخائر بہترہوئے
پاکستان میں 1960 کے بعد دوسرا بڑا سبز انقلاب لایا جارہا ہے، اس عظیم منصوبے کے پیچھے بھی جنرل عاصم کا وژن ہے
غیرقانونی افغانیوں کی ملک بدری ،ڈالر، چینی اور اسمگلنگ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن پر قوم آرمی چیف کی مشکور ہے
سپہ سالار کی براہ راست نگرانی میں کئے جانے موثر ترین آپریشنز کے مثبت نتائج بالاخر تیزی سے سامنے آرہے ہیں
ڈالر کے مقابلے میں روپیہ تگڑا اور پٹرولیم مصنوعات عوام کی قوت خرید میں واپس آگئیں ۔ رفتہ رفتہ مہنگائی کم ہونے لگی
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہر روز ریکارڈ تیزی ثبوت ہے کہ معیشت بھنور سے نکل چکی اور اعتماد لوٹ رہا ہے
کراچی ( خصوصی رپورٹ ): دہشتگردی سے تباہ حال معیشت تک، داخلی انتشار سے عالمی تنہائی تک ، پہاڑ جیسے چیلنجز لیکن تدبر، عزم مصمم اور بہترین وژن نے سب بدل کر رکھ دیا۔جنرل سید عاصم منیر کا اولین وژن اور ہمیشہ سے یہ پختہ یقین ہے کہ عظیم رہنماؤں کے وژن اور قربانیوں کے باعث پاکستان حاصل ہوا، افواج پاکستان اورعوام ایک تھے، ایک ہیں اور ایک رہیں گے، پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو کچھ بھی نہیں ۔جنرل سید عاصم منیر نے 29 نومبر 2022ء کو بطور سپہ سالار پاک فوج کی کمان سنبھالی۔اس وقت حالات موافق نہ تھے ، ہرطرف مسائل کا انبار لگا ہوا تھا ۔ سفر بے شک بہت ہی مشکل تھا لیکن جب عزم مصمم ہو اور کچھ کرنے کی لگن ہو تو اللہ کی مدد سے راستے آسان ہونے لگتے ہیں ۔
جنرل عاصم منیر نے ایک سچے سپاہی کی طرح اس چیلنج کو قبول کیا ۔ سپہ سالار سیاسی قیادت کو اعتماد میں لائے اور ان کے ساتھ مل کر مربوط اور جامع روڈ میپ مرتب کیا۔ جنرل عاصم منیر نے برادر اسلامی اور دیگر دوست ممالک کے ہنگامی دورے کیے ۔ سعودی عرب، متحدہ عرب ا مارات ، چین اورقطر سمیت سربراہان مملکت سے ملاقاتیں کیں اور تعلقات کو ازسرنو بحال کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ملک کی ڈولتی معیشت کو سہارا دینا تھا ۔زرمبادلہ کے ذخائر خطرے کے نشان سے بھی نیچے جاچکے تھے ۔ سرمایہ کاری کا فقدان تھا ۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل تھا ۔ اس وقت اگر کوئی غیرملکی سرمایہ کاری کی بات کرتا تو اسے دیوانے کا خواب قرار دیا جاتا ۔ ایسے میں جب ہرطرف غیریقینی تھی ۔
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی شبانہ روز کاوشوں کے نتیجے میں سعودی عرب نے سپہ سالار کو 25 ارب ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کی ساکھ بہتر ہونے لگی اور پھر متحدہ عرب امارات نے نےکثیر سرمایہ کاری کیساتھ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے لیے 10 ارب ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ قطر اور کویت سے 25 سے 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہونے کوہے۔امریکا جیسے اہم ملک نے بھی ایک بارپھر علاقائی اور عالمی امور پاکستان کے موقف کو تسلیم کیا۔
حکومتِ پاکستان اور پاک فوج کی مشترکہ کاوشوں سے پاکستان کی معاشی بحالی کے لئے لینڈ انفارمیشن اینڈ مینجمنٹ سسٹم (ایس آئی ایف سی) کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے، اس نظام کا مقصد بنجر زمین کو زرخیز بنانا اور بڑھتے ہوئے معاشی بحران پر قابو پانا ہے۔پاکستان میں 1960 کے بعد دوسرا بڑا سبز انقلاب لایا جارہا ہے، 75 سالوں میں ایسے کئی وژن آئے اور چلے گئے، ترقی کا راز صرف مسلسل عمل اور محنت میں مضمر ہے۔ دھرتی سے سونا اگلنے والے کسان یہاں بیٹھے ہیں، زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، کسان پاکستان کے کروڑوں لوگوں کو غذائی اجناس فراہم کرتے ہیں، زراعت کیلیے سازگار ماحول دینا کسانوں کا حق ہے، کسان کو مناسب قیمت ملے گی تو وہ پھر شوق سے محنت کرے گا، پھر گندم اور کپاس کی پیداوار اچھی ہوگی، پاکستان میں ریکارڈ گندم کی پیداوار ہوئی ہے۔ یہ سب کچھ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کےوژن کی بدولت ہی ممکن ہوپارہا ہے ۔ جنرل سید عاصم منیر معاشی اور سفارتی محاذوں پر ہی سرگرم نہیں رہے بلکہ اس دوران وہ کبھی بھی
اندورنی سیکیورٹی سے غافل نہ ہوئے ۔ چمن سے خیبر تک اور خیبر سے لائن آف کنٹرول تک ، اندورنی اور بیرونی دشمنوں کو ہر محاذ پر منہ کی کھانی پڑی ۔ ایران نے ملکی سرحدوں کے تقدس کو پامال کیا تو مسلح افواج نے 48 گھنٹوں میں منہ توڑ جواب د یکر قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ سپہ سالار نے سیاسی قیادت کی ساتھ مل کر تمام غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو بھی اپنے وطن واپس بھجوانے کا مشکل فیصلہ کیا جس کا تعلق براہ راست پاکستان کی سلامتی سے تھا۔اس حوالے سے ہر قسم کا بیرونی دباو یکسر مسترد کر دیاگیا۔ اسمگلنگ اور مافیاز کے گرد بھی گھیرا تنگ ہو چکا ہے۔ڈالر، چینی اور اسمگلنگ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن پر قوم آرمی چیف کی مشکور ہے
آرمی چیف نے غیر قانونی معاشی سرگرمیوں کے خلاف پوری قوت کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھنے کا حکم دیا، ان کا ہمیشہ سے یہ واضح موقف رہا ہے کہ غیر قانونی معاشی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیوں سے معاشی نقصانات سے نجات مل سکےگی۔آرمی چیف نے تاریخی اقدامات کے سود مند اثرات کے لیے متعلقہ محکموں کے درمیان ہم آہنگی پر زور دیا۔سپہ سالار کی براہ راست نگرانی میں کئے جانے آپریشنز کے مثبت نتائج بالاخر سامنے آنے لگے
ڈالر کے مقابلے میں روپیہ تگڑا اور پٹرولیم مصنوعات عوام کی قوت خرید میں واپس آگئیں ۔ رفتہ رفتہ مہنگائی کم ہونے لگی ۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہر روز ریکارڈ تیزی ثبوت ہے کہ معیشت بھنور سے نکل چکی اورکاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد لوٹ رہاہے پاکستان میں کچھ عرصے جاری سیاسی انتشار نے قوم کو ہیجان میں مبتلا کرکے رکھ دیا تھا ۔ معاشی عفریت نے کیا امیر ،کیا غریب، ہر ایک کی جان اپنے شکنجے میں لے لی۔ ہر طرف ایک سونامی پھنکار رہا تھا۔ یہ پروپیگنڈا اپنی انتہا پر تھا کہ ملک سری لنکا کی طرح دیوالیہ ہوجائے گا اور اس دیوالیہ پن سے چھٹکارا پانے کے لیے پاکستان کو اپنے ایٹمی اثاثے غیرملکی طاقتوں کے ہاتھوں میں گروی رکھنے پڑیں گے۔ یہ سن سن کر عوام کے کان پک گئے اور ذہن ماﺅف ہوگئے۔ جنرل عاصم منیر کے آرمی چیف بننے کے بعد ملک کی تقدیر نے بھی نئی انگڑائی لی۔ قوم جنرل عاصم منیر کو ایک مسیحا کے روپ میں دیکھ رہی ہے۔ انھوں نے امیدوں کے نئے چراغ روشن کیے۔
